حضرتِ سیِّدُناعَطیَّہ بن قیس مَذبوح(1) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُناعطیہ بن قیس مذبوح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔ آپ کا دل خوفِ خدا سے پُر اور روشن تھا۔
انعام یافتہ:
(6744)…حضرتِ سیِّدُنا ہَیثَم بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا اَیفع بن عبْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس محفل سجائے بیٹھے تھے۔ وہاں حضرتِ سیِّدُناعَطیَّہ مذبوح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف فرما تھے۔ نعمتوں کا تذکرہ ہونے لگا کہ کون زیادہ انعام یافتہ ہے۔ بعض لوگوں کا نام لیا گیا۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا اَیفع بن عبد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”عطیہ! آپ کیا کہتے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”زیادہ انعام یافتہ قبر میں موجود وہ شخص ہے جو عذاب سے محفوظ اور ثواب کا منتظر ہے۔“
انجام کی فکر:
(6745)…حضرتِ سیِّدُناعَطیَّہ مذبوح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پوتے حضرتِ سیِّدُنا حماد بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں کہ جب داداجان جاں کنی کے عالم میں تھے تو بیتاب نظرآئے۔ لوگوں نے پوچھا:”کیا آپ موت کی وجہ سے فکرمند ہیں؟“فرمایا:”میں فکرمند کیوں نہ ہوں! یہ تو ایک گھڑی کی بات ہے لیکن معلوم نہیں کہ پھر مجھے کہاں لےجایا جائے گا۔“
سیِّدُناعَطیَّہ مذبوح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
آپ حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل، حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء، حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعاویہ اور حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن عبسہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
(6746)…حضرتِ سیِّدُنامُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیوں کے سردار، دوعالَم کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…متن میں اس مقام پر ”ابوعطیہ بن قیس مذبوح“مذکور ہے جبکہ دیگر کتُبِ اعلام میں ”عطیہ بن قیس مذبوح“ مذکور ہے اور درست بھی یہی ہے لہٰذا یہی لکھ دیا گیا ہے۔(علمیہ)