Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
197 - 531
سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مرویات
	آپ حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت، حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء، حضرتِ سیِّدَتُنا اُم درداء اور حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
راہِ خدا میں سفر کی فضیلت:
(6739)…حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا یَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِی سَبِیْلِ اللہِ وَدُخَانُ جَہَنَّمَ فِیْ جَوْفِ اِمْرَءٍ مُّسْلِـمٍ یعنی راہِ خدا کا غُبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان کے پیٹ میں جمع نہیں ہوسکتے۔“(1)
(6740)… حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم بروزِ قیامت اپنے اور اپنے والد کے ناموں سے پکارے جاؤگے(2)لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔“(3)
وحی الٰہی کی شدت:
(6741)…حضرتِ سیِّدُنا نَواس بن سَمعان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ نبیوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی اَمر کے متعلق حکم کا ارادہ فرماتا ہے تو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن ماجہ،کتاب الجھاد،باب الخروج فی النفیر،۳/ ۳۴۶،حدیث:۲۷۷۴
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد6، صفحہ417 پر اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:بعض روایات میں ہے کہ انسانوں کو ان کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔غالبًا اس میں حکمت یہ ہوگی کہ حرام لوگ رسوا نہ ہوں یا حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے اظہارِ شرافت کے لئے یا حضرت حسن وحسین(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی عظمت کے اظہار کے لئے کہ حضرت فاطمہ زہرا(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کی طرف نسبت سے ان کو حضورِ اقدس(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے نسبت کا شرف حاصل ہوجاوے۔(اشعہ)مگر ان روایات میں تعارض نہیں قیامت کے اوّل وقت ماؤ ں کے نام سے پکارا جاوے گا بعد میں باپوں کے نام سے یا سب کے سامنے ماں کے نام سے پکارا جاوے گا تنہائی میں باپ کی نسبت سے یا یہاں اباء سے مراد اُمہات ہے بہت دفعہ ماں باپ کو ایک دوسرے کے نام سے یاد کردیتے ہیں۔
3…ابو داود،کتاب الادب،باب فی تغییر الاسماء،۴/ ۳۷۴،حدیث:۴۹۴۸