Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
196 - 531
مشیّت الٰہی کا منکر:
(6736)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک شخص مشیّتِ الٰہی کے متعلق دریافت کرنے آیا۔ آپ نے اسے قرآن وسنت کے مطابق مسئلہ بتایا مگر اس نے قبول نہ کیا تو آپ نے فرمایا:”باز رہو، اگر تم رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ بات سنتے تو بھی قبول نہ کرتے۔ یا فرمایا:تم اس لائق ہی نہیں کہ اسے قبول کرو۔“
(6737)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالملک نے مجھے اپنی صحبت میں رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تو میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مشورہ کیا۔ آپ نے فرمایا:”تم آزاد ہو لہٰذا خود کو غلام نہ بناؤ۔“
خاموشی کی عادت بنانے کا طریقہ:
(6738)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسَبا عتبہ بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میں ہربات کرتے وقت اپنے سینے میں ابلیس کے گناہ کی چُبھن محسوس کرتا ہوں سوائے اس بات کے جو میں کتابُ اللہ کے متعلق کرتا ہوں کیونکہ میں اس میں کمی زیادتی نہیں کرسکتا اور میں نے جس قسم کی گفتگو کرنی چاہی حسبِ ارادہ سیکھ لی پھر خاموش رہنے کی کوشش کی تو اسے علم سیکھنے سے زیادہ دشوار پایا۔“
	راوی فرماتے ہیں:مجھے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق یہ بات معلوم ہوئی کہ انہوں نے خاموشی کی عادت ڈالنے کے لئے ایک پتھر کئی سال تک منہ میں رکھا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شیخ طریقت، امیراہلسنّت، بانِیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہ نے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو نیک بننے کے لئے مدنی انعامات کے رسالے کی صورت میں بہترین نسخہ عطا فرمایا ہے اسی میں ایک مدنی انعام خاموشی کی عادت بنانے سے متعلق ہے جسے دعوتِ اسلامی کی اصطلاح میں زبان کا قفل مدینہ کہا جاتا ہے۔ دن بھر کے محاسبہ کے لئے مدنی انعامات کے اس رسالے کو حاصل فرماکر اپنی اصلاح کی کوشش کیجئے۔ بزرگانِ دین کی یاد تازہ کرنے کے لئے قفلِ مدینہ کا پتھر بھی بآسانی دستیاب ہے خاموشی کی عادت بنانے کے لئے اس کے استعمال کی بھی کوشش فرمائیے۔