Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
195 - 531
جواب دیا:”ان کے بھائی ان کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔“
جَلد روح قبض کئے جانے کا شوق:
(6733)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن یزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے:”اگر مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت میں مزید 100سال زندہ رہنے اور آج کے دن یا اِسی وقت روح قبض کئے جانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور نیک بندوں سے ملاقات کے شوق کی بنا پر آج کے دن یا اِسی وقت روح قبض کئے جانے کو ترجیح دوں گا۔“
تلاوتِ قرآنِ کریم کا شوق:
(6734)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے اپنے گھر بلایا پھر قرآنِ کریم کے کچھ نسخے نکالے۔ میں نے پوچھا:”ان سب کا آپ کیا کرتے ہیں؟“ارشاد فرمایا:”ان میں سے کوئی اضافی نہیں ہے، ایک میں پڑھتا ہوں، ایک میری زوجہ پڑھتی ہیں اور ایک میرا بیٹا پڑھتا ہے۔“
	راوی فرماتے ہیں:” میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کپڑے جب بھی دیکھے ایسا معلوم ہوا آج ہی دُھلے ہوں۔“
(6735)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت میں بیٹھنے والے ”مشکان“نامی شخص کا تذکرہ ہوا تو لوگوں نے کہا:”وہ تو بادشاہ کے پاس بیٹھتا تھا۔“آپ نے فرمایا:وہ دونوں بخش دیئے گئے۔ اس شخص کو بُرا بھلا نہ کہو، میں نے ان کو دیکھا ہے، وہ ہمارے ساتھ ”فَرادِیس“میں سمندری سفر پر تھے، ہم پر ایسا سخت طوفان آیا کہ ہمیں اپنی جان کی فکر ہونے لگی، وہ اپنے گلے میں مصحف شریف لٹکائے میرے پاس آئے اور فرمایا:”اے ابن ابوزکریا! میری خواہش ہے کہ یہ مجھے اور تمہیں قیامت کے دن کی طرف پہنچادے۔“