Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
194 - 531
باعث بنوگے) اور اگر فرمانبرداری کروگے تو سرکش ہوجاؤ گے(یعنی ظالم ٹھہروگے)۔“ میں نے ان دونوں کی تفصیل جاننی چاہی تو فرمایا:”مجھے نہیں معلوم۔“
سنت چھوٹ جانے کا خوف:
(6731)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا حسان بن عطیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے کہا:”حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ سے پتھروں کے ذریعے شرمگاہ ٹھیک طرح صاف نہیں ہوتی اور پانی سے پاکی حاصل کرنے میں ڈرتا ہوں کہیں سنت کے خلاف نہ ہو۔“
	حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ جب میں نے حضرتِ سیِّدُنا حسان بن عطیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ حدیث بیان کی:”استنجا تین صاف ستھرے پتھروں سے کیا جائے نہ کہ گوبر ولید سے اور پانی زیادہ پاک کرنے والا ہے۔“تو انہوں نے کہا:”کاش! حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زندہ ہوتے تو یہ حدیث بیان کرکے میں اُن کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا۔“
بھائی کے سبب فکرِ معاش سے آزادی:
(6732)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا مَیمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے آزادکردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں نے درہم ودینار کو کبھی نہیں چھوا اور نہ ہی کبھی خرید وفروخت کی، البتہ زندگی میں ایک مرتبہ قیمت معلوم کی تھی کیونکہ مجھے ایک مجبوری پیش آگئی تھی اور اس وقت میں نے (دمشق شہر کے مشرقی) دروازے”جیرون“کے قریب کرنسی کی لین دین کرنے والے کے پاس دو موزے لٹکے دیکھے، میں نے پوچھا:”یہ کتنے کے ہیں؟“پھر کچھ یاد آجانے پر خاموش ہوگیا۔
	حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوش مزاج اور مسکرانے والے تھے۔“حضرتِ سیِّدُنا بَقیَّہ بن ولید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”یہ سب کیسے ممکن ہے؟“انہوں نے