Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
193 - 531
ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:جس اُمت میں ہرروز15افراد25مرتبہ استغفار کرتے ہوں اللہ عَزَّ   وَجَلَّ اس اُمت کو عذاب نہیں فرماتا۔ اگر تم چاہو تو ان آیات کو پڑھ لو:
فَاَخْرَجْنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾ فَمَا وَجَدْنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
(پ۲۷،الذٰریٰت:۳۵، ۳۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا۔
(6727)…حضرتِ سیِّدُنا صَلْت بن حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کہتے ہیں:مجھے ایک عبادت گزار شخص نے بتایا کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:”بخدا!ٹاٹ کا لباس پہننا، خاک کو غذا بنانا اور کتوں کے ساتھ کوڑے کَرکٹ میں سونا نیک لوگوں کی صحبت اپنانے کو آسان بنادیتا ہے۔“
بجلی چمکے تو يہ دعا پڑھو:
(6728)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:آسمانی بجلی چمکتے وقت جو یہ دعا پڑھے”سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پاک ہے اور اسی کی حمد کی جاتی ہے“اسے گرنے والی کڑک دار بجلی نقصان نہ پہنچائے گی۔
(6729)…حضرتِ سیِّدُنا حسان بن عَطیَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا اور حضرتِ سیِّدُنا مکحول دِمشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کسی محفل میں تشریف فرما تھے اور گفتگو جاری تھی کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو تین ساعات اسے نہیں لکھا جاتا اگر وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرلیتا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کے نامَۂ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث بیان کرنے میں احتیاط:
(6730)…حضرتِ سیِّدُنا حسان بن عَطیَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں:(۱)…جس نے اپنے کسی عمل میں ریاکاری کی اس کا سارا عمل برباد ہوجاتا ہے۔میں نے پوچھا:”سارا عمل کیوں برباد ہوجاتا ہے؟“فرمایا:ہمیں اسی طرح پہنچی ہے۔ (۲)…عنقریب ایسے پیشوا ظاہر ہونگے کہ اگر تم ان کی نافرمانی کروگے تو گمراہ ہوجاؤ گے(یعنی انتشارِ اُمت کا