Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
192 - 531
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	تابعین کرام میں سے ایک حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ہیں۔ آپ نے اپنے بچپن سے بڑھاپے تک کا وقت اس طرح گزارا کہ لوگوں کے درمیان اور تنہائی میں کوئی لمحہ ذکرُاللہ سے غافل نہ رہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنے والے، ذہین، نیک اور متّقی تھے۔
20سال تک خاموشی کی مشق:
(6722)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ملکِ شام میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے افضل کوئی شخص نہیں۔ وہ فرماتے تھے:میں نے 20سال تک اپنی زبان کو اس مشق میں لگائے رکھا کہ وہ میرے حق میں سیدھی ہوجائے۔
(6723)…حضرتِ سیِّدُنا ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:”میں20سال تک خاموش رہنے کی مشق کرتا رہا مگر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔“
اَنوکھی محفل:
(6724)…حضرتِ سیِّدُنا ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی محفل میں کسی شخص کا ذکر نہیں کرتے اور فرمایا کرتے:”اگر تم اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا ذکر کروگے تو ہم تمہاری صحبت میں رہیں گے اور اگر لوگوں کا ذکر کروگے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔“
مُردہ دلی کاباعث:
(6725)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسَبا عُتبہ بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوزَکرِیّا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”جس کی گفتگو زیادہ ہو اس کی خطا زیادہ ہوتی ہے اور جس سے خطا زیادہ ہو اس کی پرہیزگاری کم ہوتی ہے اور جس کی پرہیزگاری کم ہو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے دل کو مُردہ کردیتا ہے۔“
(6726)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن یزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن