Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
191 - 531
(6720)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا فضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:”روم میں (بطورِ مالِ غنیمت) جو اناج اور چارہ حاصل ہوا تھا کیا اسے کسی نے بیچ دیا تھا؟“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”لوگ مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دین سے پھیرنا چاہتے ہیں، خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوا حتّٰی کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دنیا سے ظاہری پردہ فرماگئے، دشمن کی زمین سے جسے بھی اناج یا چارہ حاصل ہو اور وہ اسے بیچ دے تو اس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے مقرر کردہ خُمس اور بطورِ مالِ غنیمت مسلمانوں کا حصہ واجب ہوتا ہے۔(1)“
بعدوالوں کے لئے خوش خبری:
(6721)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوجمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی:”مجھے وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہو۔“انہوں نے فرمایا:ہاں! میں تمہیں ایک بہت پیاری حدیث مبارکہ سناتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم نے حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ناشتہ کیا، ہمارے ساتھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے، انہوں نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم سے بہتر بھی کوئی ہے؟ ہم اسلام لائے اور آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے۔“ ارشاد فرمایا:”ہاں! وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا(2)۔“(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مالِ غنیمت کو بیچنا جائز نہیں اور بیچا تو چیز واپس لی جائے اور وہ چیز نہ ہو تو قیمت مالِ غنیمت میں داخل کرے۔
(بہارشریعت، حصہ۹، ۲/ ۴۳۶)
2…یعنی تم کو اللہ تعالیٰ نے صحابیت، دیدارِ جمال یار وغیرہ نعمتوں سے مشرف فرمایا ہے تو اون لوگوں کو اس نعمت سے مالا مال کرے گا کہ وہ مجھے بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے، مجھ پر جان ومال فدا کریں گے، دین کی بڑی خدمات انجام دیں گے، فتنوں میں گھرے ہوں گے مگر دین پر قائم رہیں گے، اس خاص نعمت میں وہ تم سے بڑھ جائیں گے۔ خیال رہے کہ یہ جزوی فضیلت ہے مطقاً فضیلت صحابَۂ کرام ہی کو حاصل ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۸/ ۵۹۵)
3…دارمی،کتاب الرقاق،باب فی فضل اٰخر ھذہ  الامة،۲/ ۳۹۸،حدیث:۲۷۴۴