نے خود مجھے اذان سکھائی۔“(1)
دیگر کتب میں حدیث کے اور بھی الفاظ ہیں۔
چور کی سزا:
(6718)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والے صحابی حضرتِ سیِّدُنا فضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے چور کا ہاتھ(کاٹ کر) گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا:”یہ سنت ہے؟“انہوں نے فرمایا:”رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک چور لایا گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر آپ کے حکم پر اسے چور کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔(2)“
جہاں کہیں ٹھہرو نماز پڑھ لیا کرو:
(6719)…حضرتِ سیِّدُنا فَضالہ بن عُبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب دورانِ سفر کسی جگہ قیام فرماتے یا گھر میں داخل ہوتے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا فرماتے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……نے اذان ختم کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطاکی جس میں چاندی تھی۔ پھر اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر رکھا پھر اسے چہرے پر پھیر کر سینے اور دل تک لائے پھر میری ناف کے پاس رکھ کر یہ دعا دی:”بَارَکَ اللہُ لَکَ وَبَارَکَ اللہُ عَلَیْک یعنی اللہ تجھے بابرکت کرے اور اللہ تجھے برکت دے۔“میں نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے مکہ مکرمہ میں مؤذنی کی اجازت عطا فرمادیجئے۔“ارشاد فرمایا:”ہاں! میں نے تمہیں اجازت دی۔“پس رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےلئے میرے دل میں جتنی بھی نفرت تھی سب محبت میں بدل گئی۔
(ابن ماجہ، کتاب الاذان والسنة فیھا، باب ترجیع فی الاذان، ۱/ ۳۹۳، حدیث:۷۰۸)
…ابن ماجہ،کتاب الاذان،باب الترجیع فی الاذان،۱/ ۳۹۲،حدیث:۷۰۸
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد5، صفحہ308 پر اس کے تحت فرماتے ہیں:تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور آئندہ کوئی چوری کی جرأت نہ کرے۔ دیگر اماموں کے ہاں لٹکا نا سنت ہے، ہرچور کا ہاتھ کاٹ کر کٹا ہوا ہاتھ ہار کی طرح گلے میں پہنایا جائے، ہمارے امام صاحب(امام ابوحنیفہ) کے ہاں سنت نہیں بلکہ جائز ہے اگر حاکم مناسب سمجھے تو کرے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ہرچور کا ہاتھ گلے میں نہ ڈالا صرف اس کا ڈالا۔
3…معجم کبیر،۱۸/ ۳۰۰،حدیث:۷۷۰