میں تم سے پہلے رکوع میں جاؤں اور اٹھتے وقت تم مجھے پاسکو کیونکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔“(1)
(6716)…حضرتِ سیِّدُنا ابومحذورہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ حضوپرنور،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اذان کے اُنیس کلمات اور اقامت کے ستْرہ کلمات(2) سکھائے۔(3)
تعلیم مصطفٰے:
(6717)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یتیم تھے، حضرتِ سیِّدُنا ابومحذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کفالت میں تھے اور شام جانے کا ارادہ تھا۔ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابومحذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی:”میں شام جارہا ہوں غالباً لوگ مجھ سے آپ کے اذان والے واقعہ کے متعلق ضرور پوچھیں گے۔“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا:میں کچھ دوستوں کے ساتھ سفر پر نکلا۔ ہم راستے میں تھے کہ مؤذنِ رسول کی اذان کی آواز سنائی دی۔ ہم نے ان کی نقل کرتے ہوئے زور زور سے چیخنا شروع کردیا تاکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سن لیں۔ آپ نے ہمیں بلوایا تو ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگئے۔ ارشاد فرمایا:”تم میں سب سے بلند آواز کون ہے جس کی آواز میں نے سنی؟“میرے دوستوں نے میری طرف اشارہ کیا جوکہ حقیقت تھی۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب کوبھیج کر مجھے روک لیا اور ارشاد فرمایا:”اُٹھو اور اب اذان دو۔“میں اُٹھ گیا حالانکہ اس وقت مجھے آپ کی ذات اور آپ کا حکم ماننا سب سے زیادہ ناپسند تھا(4)۔ بہرحال میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کھڑا ہوگیا اور آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……کیونکہ امام کے ساتھ شرکت ہوگئی۔‘‘صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینماز کے مکروہات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:امام سے پہلے مقتدی کا رکوع وسجود وغیرہ میں جانا یا اس سے پہلے سر اٹھانا۔(بہارشریعت، حصہ۳، ۱/ ۶۲۹)
…ابو داود،کتاب الصلاة، باب ما يؤمر به الماموم من اتباع الامام، ۱/ ۲۵۲،حدیث:۶۱۹…معجم کبیر،۱۹/ ۳۶۶،حدیث:۸۶۲
2…حنفیوں کے نزدیک اذان کے پندرہ کلمے ہیں اور اقامت کے سترہ۔ یہ حدیث اقامت کے دو۲ دو۲بار ہونے پر حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ا/ ۴۰۲)
3…سنن ابن ماجہ،کتاب الاذان،باب الترجیع فی الاذان،۱/ ۳۹۴،حدیث:۷۰۹
4…چونکہ یہ واقعہ اسلام قبول کرنےسے پہلےکا ہےاس لئے ان کی یہ کیفیت تھی۔ بعد میں خود فرماتے ہیں:جب میں…☜