سیِّدُنا عبداللہ بن مُحیریز رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی مرویات
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صحابَۂ کرام میں سے حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری، حضرتِ سیِّدُنا معاویہ بن ابوسُفیان، حضرتِ سیِّدُنا ابومحذورہ، حضرتِ سیِّدُنا فضالہ بن عُبید، حضرتِ سیِّدُنا ابوجمعہ حبیب بن سِباع اور دیگر سے اور تابعین کرام میں سے حضرتِ سیِّدُنا مکحول، حضرتِ سیِّدُنا امام زُہری، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن یحییٰ بن حبان اور حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دریک رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
جس نے آنا ہے وہ آکر رہے گا:
(6710)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:ہم نے (غزوۂ بنی مصطلق میں مالِ غنیمت کے طور پر) کچھ قیدی پائے (جن میں لونڈیاں بھی آئیں) ہم نے ان سے عزل(1)کرنا چاہا تو اس کے متعلق سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا:”تم یہ کرتے رہوگے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد5، صفحہ57 پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:عزل کے معنی ہیں علیحدگی، اصطلاح میں عزل کے معنی ہیں اِنزال کے وقت عورت سے علیحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو۔ لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے بلااجازت مکروہ۔
عزل اور فیملی پلاننگ کا حکم: آپریشن کے ذریعے بچہ دانی نکلوادینا ناجائز وحرام ہےکہ اس میں ایک عضو کو ضائع کردیا جاتا ہےاوریہ مُثلہ ہےاور مُثلہ حرام، (کیونکہ) سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:”وَلَاتَمْثُلُوْایعنی اورنہ مثلہ کرو۔‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب الجھاد، باب وصیة الامام، ۳/ ۳۸۸، حدیث:۲۸۵۷، دار المعرفة بیروت) بچہ دانی کا منہ رِنگ کے ذریعہ بندکرنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اس عمل میں عورت کی شرم گاہ غیر کے سامنے کھولنااور اس کا دکھانا ناجائز وحرام ہے، ہاں اگر عورت کا شوہر یہ کام انجام دے تو حرج نہیں یونہی مانع حمل ادویات اور غبارے کا استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ یہ دونوں عزل(مرد کا اپنی منی عورت کی شرم گاہ سے باہر خارج کرنے) ہی کے حکم میں ہے اور یہ عورت کی اجازت سے جائز ہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے:”نَھٰی رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنْ یُّعْزَلَ عَنِ الْحُرَّۃِ اِلَّا بِاِذْنِھَا“ یعنی رسو لُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آزاد عورت کی اجازت کے بغیر اس سے عزل کرنے سے منع فرمایا ہے۔(مشکٰوۃ المصابیح مع مرقاۃ المفاتیح، ۶/ ۳۵۱، دارالفکر بیروت) بعض فقہا نے عورت کی اجازت کے بغیر بھی عزل کی اجازت دی ہے۔ نیز یہ یاد رہے کہ جہاں جہاں منصوبہ بندی کی اجازت ہے وہاں اگر فقر کے خوف کی وجہ سے ہے تو ممنوع ہے۔ (دارالافتااہلسنت کراچی پاکستان)