(6705)…حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن ابوسَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خلیفہ عبدالملک کے پاس ایک مکتوب لائے جس میں نصیحت لکھی ہوئی تھی۔ آپ نے نصیحت پڑھ کر سنائی تو خلیفہ نے وہ مکتوب اپنے پاس رکھ لیا۔
(6706)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزُرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو کسی عورت سے بات کررہا تھا۔ آپ نے ان سے بات کرنا چاہی مگر بات کئے بغیر یہ فرماکر وہاں سے گزر گئے:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے یہ کیا باتیں کررہے ہیں۔“
راوی کہتے ہیں:میری نظر میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ کسی کا علم نہیں۔
(6707)…حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن ابوسَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کسی غزوہ میں شریک ہوتے تو جانوروں کو چارہ دینے میں رقم خرچ کرنے کو زیادہ پسند فرماتے۔
انوکھا اُمتی:
(6708)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دُریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میں دو باتیں ایسی ہیں جو میں نے اس اُمت کے کسی دوسرے شخص میں نہیں پائیں:(۱)…وہ لوگوں سے بہت مختلف ہیں اس معاملے میں کہ جب ان پر حق واضح ہوجائے تو اسے ضرور بیان کرتے ہیں چاہے کوئی ناراض ہو یاراضی (۲)…اس بات کا بہت زیادہ خیال کرتے ہیں کہ اپنی اچھی عادتیں نفس سے پوشیدہ رکھیں۔
خیرخواہیٔ مسلم:
(6709)…حضرتِ سیِّدُنا ضَمرہ شَیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن دیلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کے درمیان اپنے (مسلمان) بھائیوں کا زیادہ خیال کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی مجلس میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر ہوا آپ بھی وہاں موجود تھے۔ کسی نے کہا:”وہ بخیل ہیں۔“حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن دیلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا:”وہ وہاں سخاوت کرتے ہیں جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے اور جہاں تم پسند کرتے ہو وہاں خرچ نہیں کرتے۔“