Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
184 - 531
(6695)…حضرتِ سیِّدُناعَبْدُرَبّہ بن سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مسجد میں صرف تین باتیں جائز ہیں:(۱)…نماز پڑھنا (۲)…ذکر کرنا اور (۳)…مستحق کا سوال کرنا اور اسے دینا(1)۔
(6696)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فلسطین آئے اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا تو ان کی بزرگی دیکھ کر خود کو ادنیٰ تصور کرنے لگے۔
برائی پہنچے تو کیا کرے؟
(6697)…حضرتِ سیِّدُنا رَ بیعہ بن ابوعبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا:”جب تمہیں بھلائی پہنچے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرو اور جب برائی پہنچے تو سجدہ ریز ہوکر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سوال کرو کہ اپنے حبیب کی اُمت سے مصیبت دور فرما۔“
پُرفِتن دور:
(6698)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”عنقریب ایسا پُرفِتن دور آئے گا کہ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام میں کافر۔“حضرتِ سیِّدُنا عباس بن نُعیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”ایسا کیسے ہوگا؟“فرمایا:”نافرمانیوں کی کثرت اسے حق پہچاننے سے روک دےگی۔“
(6699)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے باندی خریدنے کا ارادہ فرمایا۔ کسی نے پوچھ لیا:”ہمیں بتائیے کیا آپ کو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…احناف کےنزدیک:’’مسجدمیں اپنےلئےمانگناجائزنہیں اوراسےدینےسےبھی علماء نےمنع فرمایاہےیہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہدرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےفرمایا:جومسجدکےسائل کوایک پیسہ دےاسےچاہئےکہ ستّر(70)پیسےاللہتعالیٰ کےنام پراور دےکہ اس پیسہ کاکفارہ ہوں،اورکسی دوسرےکےلئےمانگایامسجدخواہ کسی اورضرورتِ دینی کےلئےچندہ کرناجائزاورسنت سےثابت ہے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،۱۶/ ۴۱۸)