تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:جو اپنے والد کے آگے چلے اس نے نافرمانی کی البتہ تکلیف دہ چیز ہٹانے کے لئے آگے ہوسکتا ہے اور جس نے اپنے والد کو نام یا کنیت سے پکارا اس نے بھی نافرمانی کی چاہئے کہ”ابوجان“ کہہ کر پکارے۔
اہل زمین کے لئے امن کاباعث:
(6692)…حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کی خبر آئی۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فر مایا:”بخدا! میں حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات کو زمین والوں کے لئے امن سمجھتا تھا۔“
جب حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہنے لگے:بخدا! میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حیات کو زمین والوں کے لئے امن سمجھتا تھا۔
رزق میں برکت کا نسخہ:
(6693)…حضرتِ سیِّدُنا عَطیَّہ بن قَیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے خدمت گار سے فرمایا:”تمہارے پاس کتنا خرچہ باقی ہے؟“اس نے کچھ مقدار بیان کی تو فرمایا:”رزق میں برکت چاہتے ہو تو اس کا احترام کرو۔“
پہلے کے مسلمان:
(6694)…حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن عقبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ رملہ کے مقام پر ایک جنازے میں حاضر تھے۔ آپ نے فرمایا:لوگوں کی عادت تھی جب کوئی مسلمان انتقال کرجاتا تو وہ یوں کہاں کرتے تھے:”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ تَوَفَّانَا عَلَی الْاِسْلَام یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جو ہمیں دیْنِ اسلام پر موت دیتا ہے“پھر یہ سلسلہ ختم ہوگیا، پس آج میں نے کسی کو اس طرح کہتے نہیں سنا۔