Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
182 - 531
نمازوں کی کثرت:
(6687)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عوف القاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی بیان کرتے ہیں کہ ہم مقامِ ”رُودِس (روم میں واقع ایک جزیرے)“پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں میں نے پورے لشکر میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ کسی کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ جب لوگوں نے انہیں پہچان لیا اور وہ مشہور ہوگئے تو انہوں اس میں کچھ کمی کردی۔
(6688)…حضرتِ سیِّدُنا ولید بن ہِشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ مجھے ولید بن عبدالملک نے صائفہ نامی علاقہ کا حاکم بنایا تو میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی:”آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجھے آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے۔ میں آپ کی رائے ضروری سمجھتا ہوں۔“حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اگر ضروری ہی ہے تو کچھ مدت کے لئے قبول کرلو۔“
جاننے اور نہ جاننے والا برابر نہیں:
(6689)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن مسلم کنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کچھ زیادہ ہی سوالات کرلئے تو آپ نے فرمایا:”اے ہشام! یہ کیا ہے؟“میں نے عرض کی:”حضور! علم رخصت ہوچکا۔“انہوں نے فرمایا:”جب تک قرآنِ کریم موجود ہے علم رخصت نہیں ہوسکتا، انسان کسی بارے میں سوال کرے حتّٰی کہ اس بارے میں جو اس پر واجب ہے اسے جان لے پھر بھی وہ اسے حاصل کرے تو کیا یہ اس شخص کی طرح ہوگا جو ایسی چیز کی طلب میں ہے جسے جانتا نہیں؟“
(6690)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزُرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ فرمایا:”مُلکِ شام میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز اور حضرتِ سیِّدُنا ابوالاَبیض عَنسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے علاوہ کسی نے حجاج بن یوسف کی برائیوں کو ظاہر نہیں کیا۔“ولید بن عبدالملک نے یہ بات سنی تو کہا:”اس سے باز رہو۔ یا کہا: میں تمہیں حجاج کے پاس لےکر جاؤں گا۔“
والد کا ادب:
(6691)…حضرتِ سیِّدُناعلی بن طلق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ