Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
181 - 531
سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:” لوگ میرے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہیں مجھے خوف ہے کہ اس کے سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھ سے ناراض ہوکر مجھے اوندھے منہ نہ گرادے۔“
(6683)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن ابوعَمرو شیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعریف کی جاتی تو فرماتے:تم کیا جانو، تمہیں کیا خبر۔
قیامت میں شرمندگی سے بچو:
(6684)…حضرتِ سیِّدُناعَبْدُرَبّہ بن سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”تم سب کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کی حمد کرتے پیش ہوگے جبکہ تم میں سے کسی نے اس کی تکذیب بھی کی ہوگی کیونکہ تم میں سے کسی کی انگلی میں سونا ہوتا ہے تو وہ اس کی نمائش کرتا ہے اور اگر انگلی میں کچھ خلل ہو تو اسے چھپائے رکھتا ہے۔“
تین نصیحتیں:
(6685)…حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالملک کنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روم کے علاقے ”ساقہ“میں کسی کی صحبت اختیار کی۔ جب وہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو ان سے کہا:”کوئی نصیحت کیجئے۔“انہوں نے کہا:”خود کو ایسا بنالو کہ تم دوسروں کو پہچانو لیکن تمہاری کوئی پہچان نہ ہو، تم چلو لیکن تمہارے پیچھے کوئی نہ چلے اور تم سوال کرو لیکن تم سے کوئی سوال نہ کرے۔“
صحابی رسول کی نصیحتیں:
(6686)…حضرتِ سیِّدُنا داؤد بن مُہاجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے صحابی رسول حضرتِ سیِّدُنا فضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت نصیب ہوئی تو میں نے عرض کی:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، مجھے  کچھ نصیحت فرمائیے۔“انہوں نے فرمایا:”تین باتیں یاد کرلو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا:(۱)…تم دوسروں کو پہچانو لیکن تمہاری کوئی پہچان نہ ہو (۲)…لوگوں کی بات سنو لیکن تم کلام نہ کرو اور (۳)…تم بیٹھو لیکن تمہارے ساتھ کوئی نہ بیٹھے۔“