سفید مصری کپڑے خریدکر پہن لئے۔“
حاکم کی دولت قبول نہ فرمائی:
(6679)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابونُعَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس گئے تو اس نے کہا:”اے ابنِ محیریز! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے بیٹے کی شادی کی ہے؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”ہاں۔“خلیفہ نے کہا:”حق مہر ہماری طرف سے ہوگا۔“آپ نے فرمایا:”مہرِمُعَجل تو ادا کردیا گیا ہے اور مہرِمُؤجَّل بیٹے کی طرف سے ہے۔“بلال بن ابوبُردہ خلیفہ کے ساتھ تخت پر بیٹھا تھا اس نے کہا:”اے ابنِ محیریز! خلیفہ کا تحفہ قبول کرلیں۔“پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔
راوی فرماتے ہیں: میں بھی ساتھ آگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمانے لگے:”بلال بن ابوبُردہ خلیفہ کا محافظ کب سے بن گیا۔“
اپناہی گھر چھوڑدیا:
(6680)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزُرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر ایک باندی بھیجی تو آپ نے گھر میں آناہی چھوڑدیا۔ کسی نے خلیفہ سے کہا:”حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا گھر چھوڑدیا ہے۔“خلیفہ نے وجہ دریافت کی تو بتایا گیا:”باندی بھیجنے کی وجہ سے۔“پھر اس نے باندی واپس منگوالی۔
(6681)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن حُباب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالواحد بن موسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نےحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یوں دعا کرتے سنا:”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْاَلُکَ ذِکْرًا خَامِلًا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے ذکرِخفی کا سوال کرتا ہوں۔“
شہرت ملنے پر رب تعالیٰ کی ناراضی کا خوف:
(6682)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن ابوعَمرو شَیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ