حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سو مرتبہ یہ دعا کی:”رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم یعنی اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ! میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما بےشک تو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔“
(6136)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ہم حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ ظاہری میں سب سے افضل حضرتِ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شمار کرتے تھے پھر حضرتِ سیِّدُنا فارقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پھر حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اور پھر سکوت اختیار کرتے۔
6137)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ مجھے جنگ کے لئے بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا اس وقت میں14سال کالڑکاتھاتورسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے شرکت کی اجازت نہ دی۔
(6138)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے مُصْطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے دن میں جتنی بار ملے اسے سلام کرے۔“(1)
(6139)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضورِ اَنور، شافِعِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو سُرخ خضاب لگائے دیکھا تو ارشاد فرمایا:”یہ کتنا اچھا ہے“اور ایک شخص کو زرد خضاب لگائے دیکھا تو ارشاد فرمایا:”یہ اچھا ہے(2)۔“(3)
بیماری سے محفوظ رہنے کی دعا:
(6140)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُمت کے غم خوار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:جس نے مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ کہا”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلٰى بِهٖ هٰذَا وَفَضَّلَنِیْ عَلَيْهِ وَعَلٰى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلًا یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم اوسط،۱/ ۸۵،حدیث:۲۴۸
2…مرد کو داڑھی اور سر وغیرہ کے بالوں میں خضاب لگانا جائز بلکہ مستحب ہے مگر سیاہ خضاب لگانا منع ہے ہاں مجاہد کو سیاہ خضاب بھی جائز ہےکہ دشمن کی نظر میں اس کی وجہ سے ہیبت بیٹھے گی۔(بہارشریعت، حصہ۱۶، ۳/ ۵۹۷)
3…ابو داود،کتاب الترجل،باب ماجاء فی خضاب الصفرة،۴/ ۱۱۷،حدیث:۴۲۱۱ بتغیر قلیل عن ابن عباس