عَلَیْہ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:”ہم اپنے پیسوں سے کپڑے لینے آئے ہیں اپنے دین کے ذریعے نہیں۔“اور کپڑا خریدے بغیر واپس چلے گئے۔
لوگوں کی گفتگو کے مطابق جواب دو:
(6675)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دُریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا:”لوگوں کی گفتگو کے مطابق انہیں جواب دو۔“
مزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان کے لئے مصر میں تیارکردہ عمامہ، چادر اور قمیص خریدی۔ شام کے وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں زیب تن کرلیا اور بعد میں مجھ سے پوچھا:”لوگوں نے کیا کہا؟“میں نے کہا:”تعریف کی۔“تو مسکرانے لگے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عموماً گندمی رنگ کا سوتی کپڑا پہنتے تھے۔
(6676)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”آپ کس طرح کا لباس استعمال فرماتے ہیں؟“فرمایا:”اَلْحَبَرات(دھاری دار یمنی چادر) اور اَلْمُمَشَّق(گیرو سے رنگا ہوا کپڑا)۔“
ریشم پہننےسےکوڑھ ہوجانا بہتر ہے:
(6677)…حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن ابوسَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”جسم میں کوڑھ ہوجانا میرے نزدیک ریشم کا لباس پہننے سے بہتر ہے۔“
اپنی تعریف سے رب تعالیٰ کی پناہ:
(6678)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمرو شَیبانی اور حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن ابوسَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے گھر کے بُنے ہوئے کپڑے پہنے تو حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دُریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”مجھے یہ پسند نہیں کہ لوگ آپ کو حقیر وبخیل سمجھیں۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میں اپنی یا کسی اور کی تعریف کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں۔“
حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:”جب ان کے پاس کچھ رقم آئی تو انہوں نے دو