حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُحَیْریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
تابِعینِ کرام میں سے ایک حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ہیں۔ آپ دیْنِ عزیز پر ثابت قدم اور عاجزی پسند تھے۔
بزرگانِ دین کی احتیاط:
(73-6672)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دریک اور حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن ابوسلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کپڑا خریدنے کپڑافروش کے پاس گئے۔ دُکان دار آپ کو نہیں پہچانتا تھا البتہ اس کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا وہ جانتا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک کپڑے کے متعلق پوچھا:”اس کی کیا قیمت ہے؟“دُکان دار نے کچھ قیمت بتائی تو پاس بیٹھے شخص نے اس سے کہا:”حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر (خرید وفرخت کے معاملے میں) نرمی کرو۔“یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میں اپنے پیسوں سے کپڑے لینے آیا ہوں اپنے دین کے ذریعے نہیں۔“یہ کہہ کر کھڑے ہوئے اور کپڑا خریدے بغیر واپس تشریف لے گئے۔
رعایت کرنے پر اظہارِ ناگواری:
(6674)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزُرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا خالد بن دُریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےکہا:”اے ابن محیریز! میں نے لوگوں سے ایسی بات سنی جو مجھے ناگوار گزری، لوگ کہہ رہے تھے کہ عبداللہ بن محیریز لباس کے لئے سوال کرتے ہیں اور ایک شخص نے آپ کے اس معاملے کو بخل کا نام دیا۔“
راوی کہتے ہیں:”حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سوتی کپڑے پسند تھے، چنانچہ آپ نے اسی وقت دو کپڑے خریدے اور انہیں استعمال فرمانے لگے۔“
راوی مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن محیریز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی تاجر کے پاس کپڑے خریدنے گئے۔ وہاں بیٹھے ایک شخص نے تاجر سے کہا:”یہ عبداللہ بن محیریز ہیں۔“یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی