40 سال پہلے جنت میں داخلہ:
(6670)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد کی ایک جانب بیٹھا ہوا تھا اور مہاجر فقرا حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ اچانک حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں تشریف لائے اور ان کے درمیان جلوہ فرما ہوگئے۔ میں بھی ان کی طرف بڑھ گیا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مہاجر فقرا کو چاہئے کہ ان کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھیں کیونکہ فقرا جنت میں امیروں سے 40سال پہلےجائیں گے۔“(1)حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:میں نےدیکھاکہ اُن کے(چہروں کے) رنگ چمک اُٹھے حتّٰی کہ میں ان میں شامل ہونے کی آرزو کرنے لگا۔
علم، علما سے ہے:
(6671)…حضرتِ سیِّدُنا عَوف بن مالک اَشجعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(حجرۂ مبارکہ سے) باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نظر اٹھاکر ارشاد فرمایا:”یہ وہ وقت ہوگا جب علم اُٹھا لیا جائے گا۔“حضرت زیادبن لَبیدانصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کی:”علم کیسےاٹھالیاجائےگا حالانکہ ہمارےدرمیان قرآن موجود ہے جو ہم اپنے بیوی بچوں کو سکھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنے بیوی بچوں کو سکھاتی ہے۔“ارشاد فرمایا:”اے ابنِ لبید! میں تو مدینے والوں میں تمہیں سب سے زیادہ سمجھدار گمان کرتا تھا، کیا یہود ونصارٰی کے پاس توریت وانجیل نہیں تھیں، کیا وہ گمراہ ہونے سے بچے؟“حدیث کےراوی حضرتِ سیِّدُنا جُبیربن نُفیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتےہیں کہ ایک بار(جلیل القدرصحابی) حضرت سیِّدُنا شَدّادبن اوسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمیری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں یہی حدیث مبارکہ سنائی، فرمانے لگے:”عَوف بن مالک نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ علم کیسے اُٹھا لیا جائے گا؟“میں نے نفی میں جواب دیا تو فرمایا:”علما کی وفات کے ذریعے علم اُٹھا لیاجائے گا اور سب سے پہلے خشوع اُٹھایا جائے گا حتّٰی کہ تم کسی کو خشوع وخضوع والا نہ پاؤگے۔“(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دارمی،کتاب الرقاق،باب فی دخول الفقراء الجنة قبل الاغنياء،۲/ ۴۳۷،حدیث:۲۸۴۴
2…مسند بزار،مسند ابن عباس،۱۲/ ۲۳،حدیث:۵۳۹۴ بتغیر قلیل…معجم کبیر،۱۸/ ۴۳،حدیث:۷۵ بتغیر