(6666)…حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرو ایسی خواہش سے جو (دل پر) مہر لگ جانے کا سبب بنے اور جو بےموقع کی جائے اور جس خواہش کا (دینی) فائدہ نہ ہو۔“(1)
مسلمان کی دعا رَد نہیں ہوتی:
(6667)…حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”روئے زمین پر موجود جو مسلمان بھی رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور اس کی دعا قبول فرماتا ہے اس طرح کہ اس کی مراد پوری کردیتا ہے یا اس کی مثل کوئی برائی اس سے دور فرمادیتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔“ کسی نے عرض کی:”تب تو ہم خوب دعائیں کریں گے۔“ارشاد فرمایا:”رب تعالیٰ کی عطا بہت زیادہ ہے۔“(2)
دن بھر رب تعالیٰ تجھے کافی ہے:
(6668)…حضرتِ سیِّدُنا ابوذَر اور حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے:نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:”اِبْنَ اٰدَمَ ارْکَعْ لِیْ اَوَّلَ النَّہَارِ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ اَکْفِکَ اٰخِرَہ یعنی اے ابن آدم! تو دن کی ابتدا میں میرے لئے چار رکعات پڑھ لے میں دن کے آخر تک تیرے لئے کافی ہوں گا۔“(3)
(6669)… حضرتِ سیِّدُنا ابوثَعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جنّات کی تین قسمیں ہیں:(۱)…پروں والے جو ہَوا میں اُڑتے ہیں (۲)…سانپ اور کتے کی شکل والے اور (۳)…وہ جو قیام بھی کرتے ہیں اور سفر بھی۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندامام احمد،مسند الانصار،حدیث معاذ بن جبل،۸/ ۲۳۷،حدیث:۲۲۰۸۲
…ترمذی،کتاب الدعوات،احادیث شتی،باب فی انتظار الفرج وغیر ذلک،۵/ ۳۳۴،حدیث:۳۵۸۴
…ترمذی،کتاب الوتر،باب ماجاء فی صلاة الضحی،۲/ ۱۹،حدیث:۴۷۴
…مستدرک حاکم،کتاب التفسیر،تفسیر سورة الاحقاف،باب الجن ثلاثة اصناف،۳/ ۲۵۴،حدیث:۳۷۵۴