انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:میں تمہیں کچھ بتاتا ہوں، میں حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری سے قبل کہیں نکلا حتّٰی کہ مقامِ خیبر پہنچ گیا، وہاں میں نے ایک یہودی کو کچھ عجیب سا پڑھتے سنا تو اس سے کہا:”جو تم کہہ رہے ہو کیا مجھے لکھ کر دے سکتے ہو؟“اس نے کہا:”ہاں ضرور۔“ میں چمڑا لےکر آیا اور اس نے لکھوانا شروع کردیا حتّٰی کہ میں نے پاؤں پر رکھ کر دلچسپی سے لکھ لیا۔ پھر جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو عرض گزار ہوا:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری ملاقات ایک یہودی سے ہوئی، اسے میں نے ایسا کلام کرتے سنا جو آپ کے سوا کسی سے نہیں سنا۔“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” کیا تم نے اسے لکھا ہے؟“میں نے عرض کی:”جی ہاں۔“ارشاد فرمایا:”مجھے دو۔“میں نے اسے معمولی سمجھا اور دےکر اس امید پر چلاگیا کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض باتوں کو پسند فرمائیں گے۔ جب واپس آیا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا:”بیٹھ جاؤ اور اسے پڑھو۔“کچھ دیر پڑھنے کے بعد جب میں نے چہرۂ انور کی طرف دیکھا تو رنگ متغیر تھا، مجھ پر ایسا خوف طاری ہوا کہ آگے ایک حرف بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری جانب نگاہ فرمائی تو میں نے وہ تحریر آپ کو دےدی۔ پھر اپنے مبارک لعاب سے ایک ایک لفظ مٹاتے گئے اور فرماتے گئے:”ان کی پیروی مت کرو، یہ سب نادانی کے سبب ہلاکت میں جا پڑے۔“حتّٰی کہ آخری حرف تک مٹادیا۔پھر حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”اگر مجھے معلوم ہوا کہ تم نے اس میں سے کچھ لکھا ہے تو تمہیں اس اُمت کے لئے عبرت بنادوں گا۔“انہوں نے عرض کی: ”بخدا! ہم اس میں سے کبھی کچھ نہیں لکھیں گے۔“پھر اپنی آخری عمر میں ان دونوں نے وہ چمڑے نکالے اور گڑھا کھود کر دفنادئیے۔
دوستی کا حق:
(6665)…حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم کسی سے محبت کرو تو اس سے جھگڑا نہ کرو، اس پر عیب نہ لگاؤ، اس کے ساتھ برائی نہ کرو اور اس سے سوال نہ کرو، ممکن ہے تمہاری ملاقات اس کے دشمن سے ہوجائے تو وہ تمہیں اس کے بارے میں جھوٹی خبر دے گا اور تمہارے اور اس کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عمل الیوم واللية لابن السنی،باب النهی ان يسئل الرجل عن الرجل...الخ،ص۱۳۰،حدیث:۲۰۰