Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
173 - 531
 معاویہ! آپ ہمارا مالِ غنیمت کشتی والوں اور قبطیوں میں تقسیم کریں گے حالانکہ وہ ہمارے مزدور ہیں؟ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بات پر عمل کیا۔(1)
مُشک سے زیادہ پاکیزہ شخصیت:
(6661)…حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں ایک لشکر عرض گزار ہوا:”امیرالمؤمنین! ہم نے انصاف پسند، حق گو اور منافقین پر سخت آپ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا، آپ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے بہتر ہیں۔“حضرتِ سیِّدُنا عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”تم نے غلط کہا، بخدا! آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے بہتر شخص کو ہم نے دیکھا ہے۔“حضرتِ سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا:”اے عوف! وہ کون ہیں؟“حضرتِ سیِّدُنا عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:”حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔“حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے:”عوف نے سچ کہا اور تم لوگوں نے غلط کہا، بخدا! حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہیں اور(عاجزی کرتے ہوئے فرمایا) میں پالتو اونٹ سے زیادہ راستہ بھول جاتا ہوں۔“
(6662)…حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیٹے ان کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:”انسان مکمل سمجھ دار نہیں ہوتا جب تک لوگوں کی صحبت نہ چھوڑدے۔“

حضرت سیِّدُناامام حسن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:جومُؤَذِّن کو’’اَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہ‘‘کہتے سنےاوریہ دعاپڑھے:’’مَرْحَبًابِحَبِیْبِیْ وَقُرَّۃِ عَیْنِیْ مُحَمَّدِبْنِ عَبْدِاللہِصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘اوراپنےانگوٹھوں کوچوم کرآنکھوں سےلگائےتونہ کبھی اندھاہواورنہ کبھی اس کی آنکھیں دکھیں۔ (مقاصدالحسنة،ص۳۹۰،تحت الحدیث:۱۰۲۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…”غنیمت اوس کو کہتے ہیں جو لڑائی میں کافروں سے بطورِ قہر وغلبہ لیا جائے۔ غنیمت میں سے خُمس (پانچواں حصہ) نکال کر باقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کردیے جائیں۔“(بہارشریعت، حصہ۹، ۲/ ۴۳۴ملتقطاً)
	مزید معلومات کے لئےبہارشریعت کےجلد3،حصہ9،صفحہ431تا441 کا مطالعہ کیجئے۔