Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
172 - 531
(6657)…حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”جس نے فقط کھانے پینے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت گمان کیا اس کی عقل کم ہے اور وہ عذاب سے قریب ہے۔“
(6658)…حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن ابوعمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:”اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے رب تعالیٰ کی اطاعت میں چہرے کے بَل گر جائے حتّٰی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے تو بھی اس دن اپنی اس عبادت کو حقیر جانے گا اور امید کرے گا کہ کسی طرح اس کا اَجر وثواب زیادہ ہوجائے۔“
عمدہ بستر گھر سے نکال دیا:
(6659)…حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن سائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی پھوپھی اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ایک عمدہ بستر تحفہ میں پیش کیا۔ اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھکاوٹ کا شکار تھیں اس لئے افطار کے بعد آرام فرمانے کا ارادہ کیا اور اپنے بھتیجے کو بستر بچھانے کا فرمایا پھر آرام فرمانے لگیں۔ نیند اس قدر پُرسکون آئی کہ صبح ہوگئی۔ (جب بیدار ہوئیں)تو بھتیجے سے فرمایا:”غافل کردینے والے اس بستر کو مجھ سے دور کردو، میں اس پر آرام نہیں کرتی۔“
مال غنیمت کے حق دار:
(6660)…حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قَبرص سے حاصل شدہ مالِ غنیمت حمص کے ساحل سے طَرطوس کی طرف روانہ فرمایا اور اسے  ایک کنیسہ(عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانہ) میں رکھوادیا جسے ” کنیسَۂ معاویہ“ کہا جاتا تھا۔ پھر لوگوں میں اعلان فرمایا:”میں مالِ غنیمت  تین حصوں میں تقسیم کروں گا ایک حصہ تمہارے لئے، ایک کشتی والوں کے لئے اور ایک قبطیوں کے لئے کیونکہ سمندری دشمنوں کے خلاف تمہاری طاقت یہی دونوں گروہ تھے۔“حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اور کہا:میں نے حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا“اے