سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا تفسیری قول:
(6654)…حضرتِ سیِّدُنا اَیفع بن عبدِکلاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس عراق سے خِراج(1)آیا تو آپ اپنے غلام کے ساتھ باہر تشریف لے آئے۔ اونٹ گنے تو وہ مقرَّرہ تعداد سے زائد تھے۔ آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کیا تو غلام عرض گزار ہوا:”امیرالمؤمنین بخدا! یہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔“حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”تم نے غلط سمجھا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا (پ۱۱، یونس:۵۸)“سے مراد اسلام کی ہدایت اور قرآن وسنت ہے لہٰذا اسی پر خوش ہونا چاہئے اوریہ چیزیں اِس مال ودولت سے بہتر ہیں جسے لوگ جمع کرنے میں لگے ہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔ آپ عاجزی کے پیکر تھے۔
(6655)…حضرتِ سیِّدُنا جُبیر بن نُفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا:”تکبر کی سب سے بُری صورت کونسی ہے؟“ فرمایا:”عبادت میں تکبر کرنا۔“
مسکراتے ہوئے جنت میں داخلہ:
(6656)…حضرتِ سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:”جن کی زبانیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے تَر رہتی ہیں وہ مسکراتے ہوئے جنت میں جائیں گے۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…خراج دو قسم کا ہوتا ہے:(۱)خراج مقاسمہ کہ پیداوار کا کوئی حصہ آدھا یا تہائی یا چوتھائی وغیرہا مقرر ہو، جیسے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودِ خیبر پر مقرر فرمایا تھا۔ اور (۲)خراج مؤظف کہ ایک مقدارِ معیَّن لازم کردی جائے خواہ روپے، مثلاً سالانہ دوروپے بیگھہ یا کچھ اور جیسے فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مقرر فرمایا تھا۔(بہارشریعت، حصہ۵، ۱/ ۹۱۵)