Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
170 - 531
بچے پر مہربان ہوتا ہے اور کافر سے کہا جائے گا:تجھے کس چیز نے دھوکے میں رکھا اپنے کرم والے رب سے؟
دوزخیوں کا آخری کلام:
(6652)…حضرتِ سیِّدُنا صَفوان بن عَمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ایفع بن عبدِکلاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیان کرتے سنا کہ رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو رب تعالیٰ فرمائے گا:”اے جنتیو! تم زمین (یعنی دنیا وقبر) میں کتنا عرصہ رہے؟“جنتی عرض کریں گے:”ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا:”ایک دن یا دن کے کچھ حصے میں تم نے میری رحمت، رِضا اور جنت کی کیا خوب تجارت کی، اب اس میں ہمیشہ کے لئے رہو۔“پھر دوزخیوں سے فرمائے گا:”تم زمین (یعنی دنیا وقبر) میں کتنا عرصہ رہے؟“دوزخی کہیں گے:”ایک دن یا دن کاکچھ حصہ۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا:”ایک دن یا اس کے کچھ حصے میں تم نے میری ناراضی، نافرمانی اور دوزخ کی کتنی بُری تجارت کی، اب رَہو اس میں ہمیشہ کے لئے۔“دوزخی کہیں گے:”اے ہمارے رب! ہمیں دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم تیری نافرمانی کریں تو ہم ظالم ہیں۔“رب تعالیٰ فرمائے گا:”دوزخ میں دُھتکارے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔“یہ رب تعالیٰ سے دوزخیوں کا آخری کلام ہوگا۔(1)
سیِّدُنا اَیفَع بن عبدکَلاعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مرویات
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا امیرمُعاویہ اور حضرتِ سیِّدُنا ابوسفیان اور دیگر صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
(6653)…حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّہْہُ فِی الدِّیْن یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرمادیتا ہے۔“(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تفسیر ابن ابی حاتم، پ۱۸، سورة المؤمنون،تحت الاٰیة:۱۱۲، ۸/ ۲۵۱۱، حدیث:۱۴۰۶۰
	اسدالغابة،۱/ ۲۴۰، الرقم:۳۵۰، ایفع بن عبد الکلاعی
2…بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیرا...الخ، ۱/ ۴۲، حدیث:۷۱