سے ”نماز“کے متعلق سوال کیا جائے گا، جن کی تقدیر میں ہلاکت لکھی ہوگی وہ ہلاکت میں جاپڑیں گے اور جن کی تقدیر میں کامیابی لکھی ہوگی وہ کامیاب ہوجائیں گے، پھر لوگ دوسرے پل پر پہنچیں گے تو ان سے ”امانت“کے متعلق پوچھا جائے گا کہ لوٹادی تھی یا اس میں خیانت کی؟ جن کی تقدیر میں ہلاک ہونا لکھا ہوگا وہ ہلاک ہوجائیں گے اور جن کی تقدیر میں کامیابی لکھی ہوگی وہ کامیاب ہوجائیں گے، پھر تیسرے پل پر پہنچیں گے تو ”قرابت“کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ قائم رکھی یا قطع تعلقی کی؟ جن کی تقدیر میں ہلاکت لکھی ہوگی وہ ہلاک ہوجائیں گے اور جن کی تقدیر میں کامیابی لکھی ہوگی وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ اس دن ”قرابت“جہنم کے درمیان ہَوا میں مُعلّق رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوگی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! جس نے مجھے قائم رکھا تو بھی اس سے تعلق قائم رکھ اور جس نے مجھے قطع کیا تو بھی اس سے قطع تعلقی فرما۔
حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا ابوعیاش ہوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس روایت کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ”لوگوں کا رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے اور چوتھے پُل پر اپنی شان کے مطابق اس کے جلوہ فرمانے“کی طرف اِن فرامین باری تعالیٰ سے اشارہ ملتا ہے:
(1)…
اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ﴿ۙ۲۱﴾ (پ۳۰،النبا:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:بےشک جہنم تاک میں ہے۔
(2)…
اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۳۰،الفجر:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں۔
(3)…
مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾ (پ۱۲،ھود:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی چلنے والا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضَۂ قدرت میں نہ ہو بےشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا ابوعَیّاش ہوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں:پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی شان کے مطابق بندوں کو پیشانی کے بالوں سے پکڑے گا اور مسلمانوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہوگا جس قدر باپ اپنے