(6648)…حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے سجدہ کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے، اس کا ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک درجہ بلند فرماتا ہے تو کثرت سے سجدے کرو۔“(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وعدہ کس کے حق میں؟
(6649)…حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ اکرم، شافع اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں ہیں جو انہیں پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے اور ان کے کسی حق کو ہلکا جانتے ہوئے ضایع نہیں کرتا اس کے حق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وعدہ ہے کہ اسے عذاب نہ دے گا اور جو انہیں ادا نہ کرے اس کے حق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اس پر رحم فرمائے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔“(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُنا اَیفَع بن عبدکَلاعی(3)رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا اَیفَع بن عبدکلاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔ آپ وعظ کے ذریعے لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے تھے۔
قیامت میں مومن اور کافر کا حال:
(15-6650)…حضرتِ سیِّدُنا صَفوان بن عَمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ایفع بن عبدِکلاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دورانِ وعظ فرماتے سنا:جہنم پر سات پُل ہیں اور پُل صراط ان کے اوپر ہے، روزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ چوتھے پُل پر اپنی شان کے مطابق جلوہ گر ہوگا، پہلے پل پر لوگوں کو روکا جائے گا اور ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب ما جاء فی كثرة السجود،۲/ ۱۸۲، حدیث:۱۴۲۴بتقدم و تأخر
2…ابو داود، کتاب الوتر، باب فیمن لم یوتر، ۲/ ۸۹، حدیث:۱۴۲۰بتغیرقلیل
3…آپ کا نام ایفع ابن ناکور کلاعی ہے۔ ذوالکلاع یمن کا مشہور قبیلہ ہے۔(مراٰة المناجیح، ۳/ ۲۵۵)