Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
167 - 531
 آخرت کے لئے کچھ عمل نہیں کرتے)۔“
(6645)…حضرتِ سیِّدُنا عقیل بن مُدرک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی بزرگ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبداللہ صُنابحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:”دنیا فتنہ کی طرف بلاتی ہے اور شیطان گناہ کی طرف بلاتا ہے جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ملاقات ان دونوں میں مشغول ہونے سے بہتر ہے۔“
سیِّدُنا ابوعبداللہ صُنابحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مرویات
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق، حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل، حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت اور حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعاویہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
(6646)…حضرتِ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جسے پسند ہو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی دعا قبول فرمائے اور دنیا وآخرت کی پریشانیاں دور کرے تو وہ تنگ دست کی دیکھ بھال کرے یا اس کی مدد کرے اور جو چاہتا ہو کہ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ روزِقیامت اسے جہنم کی آگ سے بچاکر اپنے سایَۂ رحمت میں جگہ عطافرمائے تو وہ مسلمانوں پر سختی نہ کرے بلکہ ان سے نرمی سے پیش آئے۔“(1)
ہرنماز کے بعد کا وظیفہ:
(6647)…حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا ہاتھ پکڑکر ارشاد فرمایا:”اے مُعاذ! خدا کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“میں نے عرض کی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیرے ماں باپ آپ پرقربان!بخدا!میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔“ارشادفرمایا:میں تمہیں ایک(وظیفہ کی)نصیحت کرتاہوں،ہرنمازکےبعداسےضرورپڑھاکرو: ’’اَللّٰھُمَّ اَعِنِّی عَلٰی شُکْرِکَ وَ ذِکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِک یعنی اے اللہ عَزَّ   وَجَلَّ!تیراشکر،ذکراوربہترطریقےسےتیری عبادت بجالانے پر میری مددفرما۔“(2)جس نےبھی یہ حدیث روایت کی اس نےاس پرعمل کی نصیحت بھی کی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان، باب، باب فی ان يحب الرجل لاخيه المسلم مایحب لنفسہ،۷/ ۵۳۷، حدیث:۱۱۲۶۰
2…ابو داود، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲/ ۱۲۳، حدیث:۱۵۲۲
	الدعاللطبرانی،جامع ابواب القول فی ادبار الصلوات، ص۲۰۸، حدیث:۶۵۴