Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
164 - 531
تو ایسا کوئی شخص مجھ سے زیادہ سعادت مندنہ ہوتاجسےتونےعقل عطافرمائی۔ زمانہ فترت میں ہلاک ہونے والا کہے گا:اے میرے رب!اگرتو مجھےاسلام کازمانہ عطافرماتاتو کوئی شخص مجھ سےزیادہ سعادت مند نہ ہوتا جسے تو نے اسلام کازمانہ عطا فرمایا۔بچپن میں مرنےوالاکہےگا:اےمیرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اگر تو مجھے عمر عطا فرماتا تو کوئی مجھ سےزیادہ سعادت مندنہ ہوتاجسےتونےعمرعطافرمائی۔ رب سُبۡحَانَہٗ وَتَعَالیٰ فرمائےگا:اگرمیں تمہیں کوئی حکم دوں تو اطاعت کرو گے؟وہ کہیں گے:اے پروردگار! تیری عزت وجلال کی قسم!ہم ضرور اطاعت کریں گے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائےگا:جاؤآگ میں داخل ہوجاؤ۔ پھر ارشاد فرمایا:اگر وہ آگ میں داخل ہوجاتے تو آگ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچاتی۔ پھر ان کے سامنےایسے شکاری جانورآجائیں گےجنہیں دیکھ کروہ گمان کریں گےکہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہر مخلوق کو ہلاک کردیں گے، وہ جلدی سے واپس لوٹیں گے اور عرض کریں گے:ہم لوٹ آئے، تیری عزت و جلال کی قسم!ہم اس میں داخل ہونےہی والےتھے، اچانک اس میں سے ایسے شکاری جانور نکلے کہ ہم نے گمان کیا یہ تیری ہر مخلوق کو ہلاک کر دیں گے۔ پھر اللہ عَزَّ   وَجَلَّ انہیں دوسری بار وہی حکم دے گا تویہ لوگ وہی بات دہرائیں گے۔پھر تیسری بار وہی حکم دے گا تو پھریہ لوگ وہی بات دہرائیں گے۔ پھر رب سُبۡحَانَہٗ وَتَعَالٰی فرمائے گا:میں تمہاری پیدائش سے پہلےجانتا تھا کہ تم کس حال پر ہو گے اور میں نے تمہیں اپنے علم کے مطابق ہی پیدافرمایااورمیرے علم کےمطابق ہی تم پھرو گے۔ پھرانہیں جہنم میں پھینک دیا جائےگااور آگ انہیں پکڑ لے گی(1)۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عُلَمائے اہْلِ سنت ماتریدیہ کی اکثریت کے نزدیک اہل فترت کے مشرک جہنمی جبکہ توحید باری تعالیٰ کےقائل جنتی   ہیں اور اہْلِ فترت کے  غافل لوگوں میں سے جس نے غوروفکر کی مہلت نہ پائی وہ بھی جنتی اور اگر پائی تو جہنمی لیکن اہْلِ فترت کےجہنمی  ہونے کا فیصلہ بروزِقیامت بعدِ امتحان ہوگا۔(ماخوذ ازفتاوی رضویہ،۲۸/۴۵۰،۴۴۹)کافروں کے گھر پیداہونے والا بچہ ناسمجھی کی عُمْر میں مر گیا تو وہ اُخروی اَحکام میں مسلمان شمار ہوگا اور جنت میں جائے گاہاں اگر سمجھ دار ہوکر کفر اختیار کرے گا تو کافر ہوجائے گااور جہنم کاحقدارہوگا،اگرچہ نابالغ ہو۔(ماخوذازفتاوی رضویہ،۶/۲۴،مراٰۃ المناجیح،۶/۳۱۰)رسول پاکصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:
”تین شخصوں سے قلم اٹھالیا گیاہے:(۱)سویا ہواشخص جب تک جاگ نہ جائے(۲)بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائےاور(۳) پاگل جب تک ٹھیک نہ ہوجائے۔“(ابوداود،کتاب الحدود،باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا،۴/۱۸۸،حدیث:۴۴۰۳)حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ،سوتا ہواآدمی اور دیوانہ مرفوعُ القلم ہیں ان پر شرعی اَحکام جاری نہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۵/۱۱۷)
2…معجم اوسط،۶/ ۴۹ ،حدیث:۷۹۵۵