وجاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:(نفس کے خلاف)جہاد چار طرح کا ہے (۱)…بھلائی کا حکم دینا (۲)…برائی سے منع کرنا (۳)…صبر کے مواقع پر ثابت قدم رہنااور (۴)…فاسقوں سے نفرت کرنا۔ پس جس نے بھلائی کا حکم دیا اس نے مومن کے ہاتھ کو مضبوط کیا اور جس نے برائی سے منع کیا اس نے فاسقوں کی ناک خاک آلود کی اور جو صبر کے مواقع پر ثابت قدم رہا اس نے اپنا فرض پورا کیا۔(1)
ایک روایت میں یہ بھی ہے:”جس نے فاسقوں سے نفرت کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے غصہ کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی خاطر فاسقوں پر غضب فرمائے گا۔“(2)
دشمنانِ کعبہ کا انجام:
(6131)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کے لئے نکلے گا، جب وہ ایک بیابان میں پہنچے گا ان کے اگلے پچھلے یعنی سب دھنسادیئے جائیں گے حالانکہ ان میں بازاروالے(3) بھی ہوں گے۔“اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:”ان کے اگلے اور پچھلے کیونکر دھنسادیئے جائیں گے حالانکہ ان میں بازاروالے اور وہ ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟“رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ان کے اگلے پچھلے دھنسادیئے جائیں گے پھر اُنہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“(4)
راہِ خدا میں مارے جانے کی فضیلت:
(6132)…حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فردوس الاخبار،۱/ ۳۳۶،حدیث:۲۴۶۲
2…موسوعةابن ابی الدنیا، کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، ۲/ ۱۹۸،حدیث:۱۷
3…یہاں عربی متن میں”اَشْرَافُہُمْ“کے الفاظ ہیں جس کا معنی”ان کے سردار“ہے اور بخاری شریف میں”اَسْوَاقُہُمْ“ہے جس کا معنی ”ان کے بازار“ہے اور اس سے مراد بازاروالے ہیں۔ بخاری شریف کے الفاظ زیادہ درست ہیں لہٰذا اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا علامہ بدرُالدِّین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں:امام ابونعیم کی روایت کے یہ الفاظ ”اَشْرَافُہُمْ“درست نہیں ہیں کیونکہ اشراف سے مراد لشکر کے سردار ہیں جو فساد وتخریب کاری کا ارادہ کرتے ہیں۔
(عمدة القاری، کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق، ۸/ ۳۹۸، تحت الحدیث:۲۱۱۸)
4…بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکر فی الاسواق، ۲/ ۲۴، حدیث:۲۱۱۸