Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
159 - 531
(6620)…حضرتِ سیِّدُنارَبیعہ بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیۡد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابوادریس خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:جواپنے تمام غموں کوترک کرکے آخرت کا غم اختیارکرلےتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے دنیاوی غموں میں کافی ہوگااور جودنیا کے غم میں غرق رہےتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کواس کی کچھ پروا نہیں کہ وہ کسی  بھی وادی میں ہلاک ہو۔
(6621)…حضرتِ سیِّدُنارَبیعہ بن یزیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیۡد روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوادریس خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:مسجدیں باعزت لوگوں کی جلسہ گاہ ہیں۔
پاکیزہ  کھانا:
(6622)…حضرتِ سیِّدُنا ابن شِہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابوادریس خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی بارگاہ میں حاضر تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وعظ کرتے ہوئے فرمایا:”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ کھاناکون کھاتا تھا؟“حاضرین مجلس نے سنا تو پوری طرح ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔ انہوں نے فرمایا:”حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا کھاتےتھے، لوگوں کا کھانا اپنے کھانے میں مِل جانے کے ڈر سے وہ جنگلی جانوروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔“
(6623)…حضرتِ سیِّدُناحَسّان بن عَطِیّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابوادریس خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:دنیا کافتنہ (سامری کے)بچھڑے کی طرح چھایا ہوا ہے جس کے فتنہ میں اکثر لوگ ہلاک ہو گئے سوائے ان کے جوپہلے سے جانتے تھے۔
مضامین قرآن:
(6624)…حضرتِ سیِّدُناابوقِلابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےروایت ہےکہ حضرتِ سیِّدُناابوادریس خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےفرمایا:قرآنِ کریم کی بعض آیات خوشخبری دینے،بعض ڈرسنانےاوربعض احکام بتانے والی ہیں جبکہ بعض آیات گزشتہ زمانہ کےواقعات اوران کی خبریں دینے والی ہیں نیز بعض آیات بھلائی کا  حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والی ہیں۔