النُّوْرَانِی دریائے دِجلہ پرآئے، اس کی موجیں لکڑیوں کو بہارہی تھیں۔ آپ پانی پر چلنےلگے پھر اپنے رُفقا کی جانب متوجہ ہوکر فرمانے لگے:تمہاراسامان گم ہوا ہےتوہمیں بتاؤتاکہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےاس کے ملنے کی دعا کریں۔
(6613)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب روم کی سرزمین پرجنگ ہوئی تو رومی دریا پارکرکے بھاگے۔ حضرتِ سیِّدُناابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے لوگوں سے فرمایا: بِسْمِ اللہ پڑھ کر دریا پرچلو۔ یہ کہہ کر آپ دریاپر چلنے لگے۔ آپ کو دیکھ کرلوگ بھی چلنے لگے۔ دریا کی گہرائی بہت زیادہ تھی اس کےباوجود اس کاپانی جانوروں کےگھٹنوں سےاوپرنہیں آیا۔دریاعبور کرتے وقت آپ نے لوگوں سے پوچھا: تمہاری کوئی چیزگم تو نہیں ہوئی؟اگرکسی کی کوئی چیزگم ہوجائے تو میں اس کا ضامن ہوں گا۔ ایک شخص نے جان بوجھ کراپنا تھیلا پانی میں ڈال دیا۔جب لوگوں نےدریا پارکرلیا تو اس نے کہا:میرا تھیلا دریا میں گر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا:میرے ساتھ وہاں چلو۔جب وہ ان کے ساتھ گیا تو اسے تھیلا دریامیں بہتی ایک لکڑی پر ملا۔
آنکھیں لوٹ آئیں:
(6614)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن زِیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد بیان کرتےہیں کہ ایک عورت نے حضرتِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے کیا ہوا وعدہ توڑا۔ آپ نےاس کے خلاف دعاکی جس سے وہ اندھی ہوگئی۔ وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی:”ابومسلم!میں نے ایساایساکیا،اب دوبارہ نہیں کروں گی۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دعا کی:”اےپروردگار! اگر یہ سچی ہےتو اس کی آنکھیں لوٹا دے۔“راوی کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔
علما کی اقسام:
(6615)…حضرتِ سیِّدُناابوقِلابہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:علما تین طرح کے ہیں(۱)…ایک عالم وہ ہوتا ہے جو اپنے علم کےمطابق زندگی بسر کرتا ہے اور لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں(۲)…ایک وہ عالم ہوتا ہے جواپنےعلم کےمطابق زندگی بسرکرتاہےلیکن لوگ اس کی پیروی میں زندگی نہیں گزارتے اور(۳)…ایک عالم وہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے علم کےمطابق زندگی گزارتے ہیں لیکن وہ خود کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔