ظالم حکمران اوردنیادارعلما:
(6608)…حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےچہرۂ انور پر غم کےآثاردیکھے، آپ نےاپنی داڑھی مبارک پکڑکر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیۡہِ رَاجِعُوۡن پڑھا اور فرمایا:ابھی ابھی میرےپاس جبرئیل امین نےآکر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیۡہِ رَاجِعُوۡن پڑھا تو میں نے بھی ان کے جواب میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیۡہِ رَاجِعُوۡن پڑھا اور کہا:”جبرئیل! یہ کیا معاملہ ہے؟“عرض کی:”آپ کے جانے کے کچھ ہی عرصے بعدآپ کی امت فتنوں میں مبتلا ہوجائےگی۔“میں نے پوچھا:”کفر کے فتنےیا گمراہی کے؟“عرض کی:”عنقریب ہرطرح کےفتنے ہوں گے۔“میں نے پوچھا:”ایساکیسے ہوسکتا ہے کیونکہ میں ان میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب چھوڑے جارہا ہوں؟“جبرئیل امین نے عرض کی:”وہ کتابُ اللہ کو لےکر بھی فتنوں میں مبتلا ہوں گے اور یہ فتنہ حکمران اورعلما کی جانب سے ہوگا، حکمران لوگوں کوحقوق سے محروم کریں گےیوں کہ وہ لوگوں کے حقوق میں کمی کریں گے اور انہیں ادا نہ کریں گے پس وہ باہم ایک دوسرے سےلڑیں گےاور فتنوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔علماحکمرانوں کی خواہشات کی پیروی کریں گے اور انہیں گمراہی کی طرف لےجائیں گےپھر وہ باز نہ آئیں گے۔“میں نے پوچھا:”فتنوں سے بچنےوالےکیسےبچ پائیں گے؟“جبرئیل امین نے عرض کی:” کنارہ کشی اورصبر کے ذریعے، اگر ان کا حق انہیں دیا جائے تو لے لیں اور اگر نہ دیا جائے تو طلب نہ کریں۔“(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
بروزِقیامت قرب مصطفٰے
فرمانِ مصطفٰے:اَوْلَى النَّاسِ بِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةًیعنی بروزِقیامت لوگوں میں سے میرے قریب تروہ ہوگاجس نےدنیامیں مجھ پرزیادہ درودِپاک پڑھے ہوں گے۔
(ترمذی،کتاب الوتر،باب ماجاء فی فضل الصلوة علی النبی،۲/ ۲۷،حدیث:۴۸۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نوادر الاصول، الاصل الخامس والستون والمائة، الجزء الاول،ص ۶۵۷،حدیث:۹۱۱