اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتےہیں تو فرشتے بھی حمد کرتے ہیں اور اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بڑائی بیان کرتے ہیں تو فرشتے بھی بڑائی بیان کرتے ہیں۔ پھر فرشتے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ زیادہ جانتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں:اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ!تیرے بندے تیری پاکی بیان کررہے تھے تو ہم نے بھی تیری پاکی بیان کی، انہوں نے تیری بڑائی بیان کی تو ہم نے بھی تیری بڑائی بیان کی، انہوں نےتیری حمد کی توہم نےبھی تیری حمد کی۔توہمارارب عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:اےفرشتو!گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ وہ عرض کرتے ہیں:ان میں فلاں بندہ بڑا بد کار ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے: وہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین بدبخت نہیں رہتا۔(1)
(6605)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ اورحضرتِ سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےمروی ہےکہ رحمتِ عالم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:محافلِ ذکر پرسکینہ نازل ہوتا ہے،ملائکہ انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت ان پر چَھاجاتی ہےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ عرش پر ان کا ذکر فرماتا ہے۔(2)
نوجوانوں کی ہلاکت کی خواہش نہ کرو:
(6606)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:اپنے نوجوانوں کی ہلاکت کی خواہش نہ کرواگرچہ ان میں عذاب کے حقدار ہوں کیونکہ ان کی دو حالتیں ہونگی(۱)…وہ توبہ کریں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی توبہ قبول فرمالے (۲)…آفات انہیں سہارا بنادیں اس طرح کہ اگرآفت دشمن کی صورت میں ہو تووہ ان سے مقابلہ کریں گے،اگرآگ کی صورت میں ہو تو وہ اسے بجھائیں گےاور اگرسیلاب کی صورت میں ہو تووہ بند باندھیں گے۔(3)
(6607)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:مسافر کی موت شہادت ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم صغیر، ۲/ ۱۰۹، حدیث:۱۰۷۰ بتغیر
2…تاریخ بغداد،۳/ ۳۴۴،الرقم:۱۴۶۲،ابو عبداللّٰہ محمد بن عمرو ابن عمرویہ
3…فردوس الاخبار،۵/ ۱۸، حدیث:۷۳۱۵
4…شعب الایمان،باب فی الصبر علی المصائب،۷/ ۱۷۳،حدیث:۹۸۹۲