وقت افسوس کرنابےکارہوگا،انسان توموت کا ہدف ہے۔وہ جب تیرمارتی ہے تو غلطی نہیں کرتی اورجس کو مارنے کاقصدکرتی ہےاس کےعلاوہ کونہیں لگتا۔سن لو!سب سے بڑی بھلائی آخرت کی ہے جو ہمیشہ رہے گی، کبھی ختم نہ ہوگی، وہ باقی ہےکبھی فنا نہ ہو گی اورمسلسل رہے گی منقطع نہ ہوگی اور جن بندوں پرکرم نوازی ہوگی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےپڑوس میں مَن پسند اورآنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی چیزوں میں اپنی زندگی بسر کریں گے۔ عمدہ مقامات پرایک دوسرےکودیکھیں گےاورملاقات کر کے دنیاوی زندگی کے متعلق گفتگو کریں گے۔ ان لوگوں کومبارک ہو!مبارکباد اس لئےکہ انہوں نے اپنے مقصدکوپالیااور انہیں ان کی مراد مل گئی کیونکہ وہ اس بادشاہ کی طرف راغب رہےجو کریم اور بڑی فضیلت والا ہے۔
(6597)…حضرتِ سیِّدُنانَضْربن اسماعیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےہمراہ ایک جنازے میں شریک ہوا،آپ کےاِردگردلوگ جمع تھے،جب میت کو قبر میں رکھا گیا توآپ رونے لگے اورمردےکو مخاطب کرکے کہا: تم دنیا کا سفر مکمل کرچکے،اگر تم نے اپنی قبر کے لئے نیکیوں کا سہارا حاصل کیا تو تمہیں مبارک ہو۔
سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مرویات
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےحضرتِ سیِّدُناعطاء،حضرتِ سیِّدُنامجاہد،حضرتِ سیِّدُناسعيد بن جُبير، حضرتِ سیِّدُناطاؤس، حضرتِ سیِّدُناعِكرِمہ، حضرتِ سیِّدُناابوزُبير، حضرتِ سیِّدُنااسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ،حضرتِ سیِّدُنا نافع، اپنے والد حضرتِ سیِّدُنا ذر،حضرتِ سیِّدُناشَعبی اور حضرتِ سیِّدُناشَقيق ابووائل رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ودیگر تابعين عظام سے احادیث لی ہیں۔
(6598)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ سرکارِ مکہ مکرمہ،سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام سےاستفسارفرمایا:”اے جبریلعَلَیْہِ السَّلَام! جتنی دفعہ تم ہماری زیارت کوآتے ہواس سےزیادہ آنے سے تمہیں کس چیزنےروکا ہے؟“اس پریہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ۚ ترجمۂ کنز الایمان:(اور جبریل نے محبوب سے عرض کی)ہم