Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
148 - 531
تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے کلام میں کہا کرتے تھے کہ تم سب جانتےہو تمہیں موت آنی ہے لیکن ابھی تک آئی نہیں  ہے، تم روزمرہ کی زندگی میں موت کو اس وقت یاد کرتے ہوجب کسی  کی میت کوبدن سکھا دینے والے گڑھے اور چٹان کے بہرے پتھروں (یعنی قبر)کی طرف لے جارہےہوتےہوجبکہ وہ شخص اپنے گھر والوں پر مہربان اور اپنے خاندان میں سخاوت کرنےوالا اور لوگوں کاسردارہوتاہے، اس کے اہل و عیال اس کے لئے روئی کا بچھونا تک نہ لگائیں گے، قبر کے کیڑےمکوڑے اس کے جسم سےچمٹ جائیں گے، اس وقت نیک اعمال اس کے کام آئیں گے۔ یااس غریب شخص کودیکھ کر موت کویادکرتےہوجودنیاکےلئےغمزدہ ہےاوراس کے لئے خوب کوششیں کرتا اور اپنےبدن کو تھکاتا ہے اور مقصد کےحصول سے پہلے ہی موت اسےآ دبوچتی ہے۔یااس وقت موت کو یاد کرتے ہو جب دودھ پیتے بچے، درد میں مبتلامریض یابرائیوں میں مبتلا رہنے والے کو موت کا تیر آلگتا ہے۔ کیا واعظین کاکلام عبادت گزاروں  کےلئےنصیحت نہیں؟میں کبھی یہ کہتاہوں کہ اللہسُبۡحَانَہٗ وَ جَلَّ جَلَالُہٗ نے تمہیں اتنی مہلت دی گویا آزاد چھوڑا ہوا ہے پھر جب اس کے حلم و قدرت کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ اللہ سُبۡحَانَہٗ نے ہمیں موت کے وقت سے اس دن تک کی ڈھیل دی ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور دل تھرتھراجائیں گے:
مُہۡطِعِیۡنَ مُقْنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمْ لَایَرْتَدُّ اِلَیۡہِمْ طَرْفُہُمْ ۚ وَاَفۡـِٕدَتُہُمْ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾(پ۱۳،ابراھیم:۴۳)	
ترجمۂ کنز الایمان:بے تحاشا دوڑتے نکلیں گےاپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں کچھ سکت(طاقت) نہ ہوگی۔
	اےمیرےرب عَزَّ  وَجَلَّ!تونےخوف دلاکرمخلوق پراپنی حجت قائم کردی،پھریہ آیت تلاوت فرمائی:
وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاۡتِیۡہِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ
(پ۱۳،ابراھیم:۴۴)	
ترجمۂ کنز الایمان:اورلوگوں کواس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گاتو ظالم کہیں گےاےہمارےرب تھوڑی دیرہمیں مہلت دے۔
	پھر فرمانے لگے:ارےاوظالم!تجھےجومہلت ملی ہےاس کےپوراہونےسےپہلےاسےغنیمت جان اور اس کےختم ہونےسےپہلےنفع اُٹھالے،انسان کا آخری وقت وہ ہے کہ اسے موت آنے کا اندازہ ہوجائےگا۔اس