حتّٰی کہ میں سوچنے لگا اب اس کا دم نکل جائےگا۔ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس بات کاذکرکیاتوانہوں نے فرمایا:بھتیجے!جب عقل سلامت نہ رہے تو جسم میں حرارت رہتی ہے نہ آنسو نکلتے ہیں اور جب عقل سلامت رہے تو عقل والا وعظ کوسمجھتا ہےاوروہ اسے حرارت پہنچاتی ہے۔ بخدا! وہ درحقیقت غمگین اور رونے والا ہے۔
(6590)…حضرتِ سیِّدُناابوبَحربَکراوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کابیان ہےکہ فَضل رَقاشی اورحضرتِ سیِّدُناعُمَر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ میں ایک جگہ جمع ہوئے میں بھی وہاں حاضر تھا۔فضل رقاشی نے طویل کلام کیااور وعظ و نصیحت کی،دوران وعظ مختلف مذاہب بھی بیان کیے لیکن ان کے کلام سے میں نے کسی پر رقت طاری ہوتے نہیں دیکھی۔ پھر جب حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کلام کاآغاز کیا تو آپ رونے لگے، لوگوں پر بھی رقت طاری ہوگئی اور سب رونے لگے۔
رب تعالیٰ سے حیا:
(6591)… حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدکےحوالے سے بیان کرتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دوفرشتوں کو حکم دیا کہ آدم و حوا کو جنت سےالگ کردو کیونکہ ان سے میرے حکم میں لغزش واقع ہوگئی۔ حضرتِ سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَام حضرتِ سیِّدَتُناحوّا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف روتے ہوئے متوجہ ہوئے اور کہا:جوارِ الٰہی سے الگ ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ،یہ ہماری لغزش کا پہلا اثر ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرتِ سیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَام کے مبارک سرسےتاج اُتارا،حضرتِ سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواہر سےمزین سر بند کھول کر اس کے ساتھ ایک ٹہنی لٹکا دی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سمجھاکہ سزا شروع ہوچکی تو سر جھکاکر معافی معافی پکارنے لگے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا:میرے حکم میں لغزش واقع ہونے کی وجہ سے معافی مانگ رہے ہو؟عرض کی:میرے مولیٰ!تجھ سے حیا کی وجہ سےسرجھکالیاہے۔
حُسنِ سلوک کی اعلیٰ مثال:
(93-6592)…حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:ابن عَیّاش مَنتوف حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بُرا بھلاکہتا تھا۔ایک دن آپ نے اس سے کہا:ہمارے بارے میں اتنی زبان درازی