Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
144 - 531
نے ایک شخص کو یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے سنا:
یٰۤاَیُّہَا الْاِنۡسٰنُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾ (پ۳۰،الانفطار:۶)	
ترجمۂ کنز الایمان: اے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے۔
	تو کہا:جہالت نے۔
(6586)…حضرتِ سیِّدُناابونُعیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی کو یہ آیت تلاوت کرتے سنا:
اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ﴿ۙ۳۴﴾  (پ۲۹،القیامة:۳۴)	ترجمۂ کنز الایمان: تیری خرابی آلگی اب آلگی۔
	تو کہنے لگے:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! یہ کس  قدر سخت وعید ہے۔
آنسوؤں کے طلب گار:
(6587)…حضرتِ سیِّدُنازکریابن ابو زائدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب وعظ شروع کرتےتو کہتے:”مجھےاپنےآنسوعاریۃً دےدو۔“ایک مرتبہ جب لوگ وعظ سن کر جانے لگے تو حضرتِ سیِّدُنا امام شَعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےلوگوں سے پوچھا:” کیاتم نے اپنے آنسو انہیں دے دیئےتھے؟“
رنجیدہ ہونا پسند ہے یا آنسو بہانا؟
(6588)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن صُبَيـْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”آپ کے نزدیک خوفِ خدا رکھنےوالوں کے لئےطویل رنج زیادہ بہترہےیا آنسو بہانا؟“فرمایا:” کیاتمہیں معلوم ہے کہ (رونے کے سبب)جب دل نرم ہوجاتاہے تو تندرست اور مطمئن ہوتا ہے جبکہ غمگین دل حلق میں آجاتاہے پھر تسبیح کرتا ہے۔ پس غم ان کے حق میں  زیادہ پسندیدہ ہے۔“
(6589)…حضرتِ سیِّدُناابن سِماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وعظ کیا تو قبیلہ تمیم کاایک نوجوان چیخ کررونے لگااور اس(کے چہرے) کا رنگ تبدیل ہوگیا، آنسو مستقل جاری تھے اور وہ بے ہوش ہوکرگرپڑا۔ انہی کی ایک اور مجلس میں پھر اسے اتنا روتے دیکھا