Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
143 - 531
عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یوں دعا کرتے سنا:اےپروردگار! میں تجھ سے ایسی بھلائی  کا سوال کرتا ہوں جس سے ہمیں صبرکرنےوالوں جیسا ثواب ملے۔ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں ایسےشکر کا سوال کرتا ہوں جس سے ہمیں تیرا شکر کرنے والوں جیسا اَجر ملے۔ الٰہی! میں ایسی توبہ کاسوال کرتاہوں جوہمیں گناہوں کے میل کچیل سےپاک کر دے تاکہ  ہمیں تیری بارگاہ میں توبہ کرنے والوں جیسا مقام مل جائے۔ تو ہی ہر نعمت اور بھلائی عطا کرنے والا ہے، ہر مصیبت وپریشانی اورتکلیف میں تجھ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔ اے پروردگار! تیرے جو فیصلے ہم  پر شاق ہوں ان پر ہمیں صبر عطا فرما اور فرمانبردارں کی طرح راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔ تو نے جس چیز  کا فیصلہ کردیااس پر دل سے تیرا شکر ادا کرنے، اخلاص کےساتھ تیرے حضور جھکنے اور تیرے ان عمدہ فیصلوں پر سر ِتسلیم خم کرنے کی توفیق عطافرماجن سے ہمیں درجات رفیعہ اور تیرا قرب ملنے کی امیدہو۔ اے کریم!اے میرےخدا!تیرا قرب حاصل کرنے کے لئے ایمان سے زیادہ نفع مند ہمارے لئے کچھ نہیں، بےشک تونے ایمان عطافرما کر ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا پس ہمیں اس سے جدا نہ کرنا اور اسے ہم سے جدانہ کرنا حتّٰی کہ ہمیں ایمان پر موت دے،ہمیں تیرے ثواب  پر یقین، تیرے عذاب کا خوف، تیری آزمائش پر صبراورتیری رحمت کی امید ہو۔
عظیم شے کا سوال:
(6583)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کابیان ہے: حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ مجھ سےحضرت ربیع بن ابوراشدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدنے فرمایا:اے ابوذر!جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس کی رضا کا سوال کیا اس نے عظیم شے کا سوال کیا۔
(6584)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنبیان  کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اگر مجھےقسم ٹوٹ جانےکاخوف نہ ہوتا تو میں یہ قسم کھاتاکہ دنیا کی کوئی چیز حاصل نہیں کروں گا حتّٰی کہ اس بارے میں کراماً کاتبین کی رضا کو نہ جان لوں۔“
دھوکے کا سبب:
(6585)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنسے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ