عورت، گمشدہ بچے پر رونے والی ماں کی طرح نہیں ہوتی(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اخلاص عطا فرمائے)۔“
(6578)…حضرتِ سیِّدُنامحمد بن کُناسہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حلم سےمانوس ہوگئے ہو اسی لئے اس کی نافرمانی پر ڈٹے ہوئے ہو۔ کیا تم اس کا غضب چاہتے ہو؟ کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا؟
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ (پ۲۵،الزخرف:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان(سب) کو ڈبودیا۔
اے لوگو!جواشیاء حلال نہیں ان سےبچ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شان کوبلندکروکیونکہ جب نافرمانی کی جائے تو قہرِخداوندی سے اَمان نہیں مل پائے گا۔
موت کا عمل:
(6579)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن صُبَـيْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:موت جب کسی کے گھر داخل ہوتی ہےتوان کی جماعت کو منتشر کر دیتی ہے اور ان کی زندگی کو تنگی کا شکار کردیتی ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ خوشی اورتکبر میں زندگی بسرکر رہے تھے۔
نیکی کی پناہ گاہیں:
(6580)…حضرتِ سیِّدُنا عُمّار بن عَمروبَجلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سنا:جس نے تمام امور میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھا ما اس نے بھلائی سمیٹ لی نیز نیکی کی پناہ گاہیں اورکامل اَجر تلاش کرلیا۔
(6581)…حضرتِ سیِّدُنامحمد بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:ہمارے کچھ رُفقا نے بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب رات شروع ہونے کے آثار دیکھتے توکہتے:رات آچکی ہے، لوگ رات (کی تاریکی) سے ڈرتے ہیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات کازیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
رقت انگیز دعا:
(6582)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن عُبَـیْدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا