عَلَیْہ نے فرمایا: حضرت سعیدبن جُبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میرے والد کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کے متعلق نصیحت کرتے ہوئےفرمایا:”اےابوعمر!مسلمان کی زندگی کاہردن اس کے لئے غنیمت ہے۔“پھرفرض نمازوں اوران اذکار کا ذکر کیاجس کی انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے توفیق دی تھی۔
اولیائے کرام کا عقیدہ:
(6576)…حضرتِ سیِّدُنا خَلّاد بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا عطا بن ابورَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ذکر ہمیشہ اچھے الفاظ سے کیا جائے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کاذکر کیااورکسی صحابی کی شان میں کسی طرح کی کمی کی جائے نہ کسی پر کسی طرح کا اعتراض کیا جائے اور جس نے کَلمۂ شہادت پڑھا، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نازل کردہ احکام کو مانا اس کے بارے میں مومن یا کافر ہونے کی دلیل نہ مانگو، جن لوگوں نے نیک کام کئے ہم ان کےلئے ثواب کی توقع رکھتے ہیں اور ان کے نیک کاموں کو پسند کرتے ہیں۔ جن سے خطا سرزد ہوئی ہم ان کےاس عمل کو ناپسند کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہےتو ان کی خطا کو معاف فرمادے یا اس کے سبب عتاب فرمائےکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ (پ۵،النسآء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
پس یہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمّۂ کرم پر ہے۔ان کی بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا عطا بن ابورَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:اسی بات کی وجہ سے میں تمہیں پسند کرتا ہوں اوریہی بات صحابی کوغیرصحابی سےممتازکرتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پررحم فرمائے اور ہماری اور ان کی مغفرت فرمائے۔
(6577)…حضرتِ سیِّدُناابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےبیٹے نے ان سے عرض کی:”اباجان!جب متکلمین بیان کرتےہیں تو کوئی نہیں روتا لیکن جب آپ بیان کرتے ہیں تو ہر طرف سےرونے کی آوازیں آتی ہیں۔“آپ نے فرمایا:”بیٹا!اُجرت پر رونے والی