عبادتِ الٰہی کےلئےمؤمنین کاوسیلہ:
(6572)…حضرتِ سیِّدُناعُمارہ بن عمر بن عَلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمربن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے،رات اور اس کی تاریکی میں اپنے لئے (نیک)عمل کرو کیونکہ خسارے میں ہے وہ شخص جو رات اور دن میں نیکی کرنے سے دھوکے کاشکار ہے اور محروم ہے وہ شخص جورات اور دن کی بھلائی سے محروم رہے۔ رات اور دن رب عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کےلئے مومنین کا وسیلہ ہیں اور جولوگ اپنی ذات سے غافل ہیں ان لئے وبال ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئےاپنی ذات کو اس کے ذکر سے زندہ کرو کیونکہ دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے زندہ ہوتے ہیں۔ رات میں قیام کرنے والے کتنے ہی ایسے ہیں جو اپنے اس عمل کے سبب اپنی قبروں میں خوش وخرم ہیں اور کتنے ہی سونے والے ایسے ہیں جب وہ عبادت گزاروں کوبارگاہِ الٰہی سے ملنے والامرتبہ دیکھیں گےتو اپنی لمبی نیندپرافسوس کریں گے۔تم گزرتے ہوئے ایام اور رات دن کو غنیمت جانو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے۔
(6573)…حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے:
مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِؕ﴿۳﴾ (پ۱،الفاتحہ:۳) ترجمۂ کنز الایمان:روزِ جزا کا مالک۔
تو عرض کرتے:اے روزِجزا کےمالک! تیرا ذکر صادقین کے دلوں کو خوب لذت دیتا ہے۔
(6574)…حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہذکر کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:اگرآج میں تمہیں قرآن مجیدکی ایسی نصیحتیں نہ سناؤں کہ جس سےطالب خیراپنی مراد کو پالے تو تمہارے دلوں کی سختی،آنکھوں کی خشکی اور بےعلم رہ جانےکاذمہ دارمیں ہوں گا۔آپ نے فرمایا: یہ دنیا فانی ہے پھرسورۂ تکویر تلاوت کی۔ پھر کہا: حاملہ اونٹنیوں اور ان کے مالکوں پر افسوس ہے،انہوں نے ان اونٹنیوں میں پہلےبخل کیا پھر انہیں آزاد چھوڑ دیں گے۔
سیِّدُنا سعید بن جُبیر کی نصیحت:
(6575)…حضرتِ سیِّدُناخَلّادبن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی