خراب کی نہ ہمارے لئے رسوائی کا سبب بنے، تمہیں پیش آنے والے معاملات کے غم نے مجھے تمہاری موت کا غم بھلا دیا ہے۔ اے ذر! اگر قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور کھڑےہونے اور وہاں لوگوں کے جمع ہونے کامعاملہ نہ ہوتا تومیری یہ تمنا ہوتی کہ تمہیں کبھی موت نہ آئے۔ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تم سے کیا سوال کیا جائے گااورتم کیاجواب دو گے؟ اےپروردگار! بے شک تو نے مجھ سے بیٹے کی موت پر صبرکرنے پر اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ اےمیرے خدا! اس پر اپنی سلامتی اور رحمت نازل فرما۔ اے پروردگار! اپنے بیٹے کےحسن سلوک کی وجہ سے میں نے اپنی نیکیاں اسےدیں۔ تو اس کی پہچان خطاکار کے طور پر نہ کروانا اور اس کی خطاؤں سے درگزر فرماکہ تو اس پر مجھ سےبڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے اس کی غلطیوں کو معاف کیا تو بھی اس کی خطاؤں سے درگزر فرما کہ تومجھ سے زیادہ جودوکرم والاہے۔جب قبر سے جانے کے لئےمڑے تو کہنے لگے:ذر! اب ہم تمہیں یہاں چھوڑے چلتے ہیں کیونکہ ہمارے رُکے رہنے سے تمہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
رب تعالیٰ پر کامل بھروسا:
(6571)…حضرتِ سیِّدُنامحمد بن جابر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو لوگ کہنے لگے:”اب یہ بوڑھا بھی مر جائے گا کیونکہ والدین کی دیکھ بھال بیٹاہی کرتاتھا۔“جب آپ نے یہ سنا تو حیرت میں ڈوب کر فرمانے لگے:” کیامیں اس کےبغیر مَر جاؤں گا؟ زندگی دینے والی ذات تو رب کی ہے جسے موت نہیں۔“پھر آپ خاموش ہوگئے۔ جب قبر پر مٹی ڈالی جاچکی تو قبر کے پاس کھڑے ہوکر لوگوں کوبتانے کے لئے بیٹے سے یوں مخاطب ہوئے:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، ہمیں تمہارے بعدکوئی پریشانی نہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےہوتے ہوئے ہمیں کسی سےکوئی حاجت نہیں۔ میں تم سے پہلے مرنا پسند نہیں کرتا البتہ اگر قیامت میں پیش ہونا نہ ہوتا تو میں تمہاری جگہ ہونے کی تمنا کرتا۔ آخرت کے غم نے مجھے تمہاری موت کا غم بھلادیا۔ کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ منکر نکیرنے تم سے کیا سوال کیا اور تم نے کیا جواب دیا؟“پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کی:”اےپروردگار! میں نے اپنا حق معاف کیا جو میرے اور اس کے درمیان تھا،توبھی اسے اپنا حق معاف فرمادےجو تیرے اور اس کے درمیان ہے۔“
راوی کہتے ہیں:لوگ اپناطرزِعمل اور پھر ان کاصبرورضا دیکھ کرحیرت کرنے لگے۔