Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
138 - 531
بائیں ہاتھ میں جنت دی جائےگی،اس کے سر پر سکینہ اُتارا جائےگا، اس کے والدین کو دو ایسے حُلّے پہنائے جائیں گے کہ دنیا میں ایسےنہ پہنے ہوں گے۔ والدین عرض کریں گے:”ہمیں یہ کس لئے پہنائے گئے؟ ہمارے اعمال تو ایسے نہیں۔“ان سے کہا جائے گا:”یہ اس وجہ سے ہے کہ تمہارے بیٹے نے قرآن پر عمل کیا۔“(1)
(6568)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم، نورمجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مقام حِجر(2) سےگزرے تو اپنے اَصحاب(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) سے ارشاد فرمایا:ان (کھنڈرات)میں داخل نہ ہونا کہیں ایسا نہ ہو جو عذاب ان پر آیا وہ تم پر بھی آجائے۔(3)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَر
	آپ نیک اعمال کی نصیحت کرتے اور برائی سے منع کرتے تھے۔
ساری نیکیاں بیٹے کے نام:
(70-6569)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن کُناسہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذَرہمدانی  قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکے بیٹے ذر کا اچانک انتقال ہوگیا۔ گھروالے روتے ہوئےآپ کے پاس آئے، آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوگیا ہے؟خدا کی قسم! ہم پر ظلم ہوا ہے نہ قہر نازل ہوا، ہمارا حق مارا گیا نہ ہمارے ساتھ کوئی خطا کی گئی ہے، نہ ہمارےعلاوہ کسی اور کا قصد کیاگیا۔ہمیں بارگاہِ خداوندی میں ناراضی کا اظہار زیب نہیں دیتا۔ جب بیٹےکو قبر میں رکھاگیاتو کہنے لگے:بیٹا!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پررحم فرمائے۔بخدا! تم نے میری فرمانبرداری کی اور میں نے تم  پر شفقت کی،مجھےتم سےکوئی خوف نہ تھا، مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کسی سےکوئی حاجت نہیں، تم نے ہماری عزت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۸/ ۲۹۱،حدیث:۸۱۱۹
2…حجر وہ جگہ ہے جہاں صالح عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم یعنی قوم ثَمود آباد تھی۔ یہ جگہ تبوک جاتے ہوئے راستہ میں پڑی اور یہ واقعہ غزوۂ تبوک کا ہے، وہاں عذاب الٰہی آیا تھا۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۶۷۰)
3…بخاری،کتاب المغازی،باب نزول النبی الحجر،۳/ ۱۵۰،حدیث:۴۴۲۰