بڑی گھبراہٹ غمزدہ نہ کرےگی اور نہ انہیں حساب وکتاب کی فکر ہوگی:(۱)…وہ شخص جوقرآن کو بنیت ِثواب پڑھےپھر لوگوں کی امامت کرے (۲)…وہ شخص جو ثواب کی نیت سے اذان دے اور (۳)… وہ غلام جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اپنے مالک کا حق ادا کرے۔(1)
یقین کی کمزوری والےاعمال:
(6563)…حضرتِ سیِّدُناابوسعیدخُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ سرورِ کائنات، شاہ ِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:یقین کی کمزوری یہ ہے کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا پر لوگوں کی تعریف کرو اور ان کی برائی اس وجہ سے کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں عطانہ کیا۔ یقیناً کسی لالچی کی لالچ تم تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا نہیں پہنچاسکتی اور نہ کسی کی ناپسندیدگی اسے روک سکتی ہے۔ بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےخوشی اورکشادگی کورضااوریقین میں رکھا ہے جبکہ غم اور پریشانی کو شک اورناراضی میں رکھا ہے۔(2)
(6564)…حضرتِ سیِّدُناابوسعیدخُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہےکہ حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تلاوتِ قرآن جسے میرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے روک دے، میں اسے مانگنے والوں سے بہتر عطا کروں گا اور قرآنِ مجید کی فضیلت دیگر کلاموں پر ایسی ہے جیسی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اپنی مخلوق پر۔(3)
شہید کی تمنا:
(6565)…حضرتِ سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہےکہ غزوۂ اُحد کے دن میرے والد شہید ہوگئے۔ مجھے خبر ملی تو میں ان کی طرف چل دیا۔ انہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے ایک کپڑا ڈال کر رکھا گیا تھا۔ میں نے چہرہ دیکھنے کے لئے کپڑا ہٹایا تو صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مجھے منع کرنے لگے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اپنے والد کا مُثلہ کیا ہوا(یعنی بگاڑا گیا)چہرہ دیکھوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں تشریف فرما تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہ فرمایا۔ جب جنازہ اٹھایا گیاتو ارشاد فرمایا:فرشتے اپنے پروں سے مسلسل سایہ کئے ہوئے تھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی، کتاب صفة الجنہ، باب ۲۵، ۴/ ۲۵۵، حدیث:۲۵۷۵، بتغیر
2…شعب الایمان،باب فی ان القدر خيره و شره من الله،۱/ ۲۲۱،حدیث:۲۰۷
3…ترمذی،کتاب فضائل القراٰن،باب ۲۵، ۴/ ۴۲۵،حدیث:۲۹۳۵