رہتے،ان سے اپنی نظریں نہ پھیرتے۔ غالباً وہ علم حدیث کے معاملےمیں انہیں بہت اہمیت دیتے تھے۔
حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعَمروبن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے استاد ہیں، میں نے انہیں فرماتے سنا:مُحدّث کو چاہئےکہ صَرّاف (یعنی سکےتبدیل کرنے والے) کی طرح ہوجائےاور حدیث کو ایسے پرکھے جیسے سکے تبدیل کرنے والا درہموں کو پرکھتاہےکیونکہ جس طرح دراہم کھرے کھوٹے ہوتے ہیں ایسے ہی حدیث کا معاملہ ہے۔
کس چیز کی خاطر زندہ رہنا چاہئے:
(6555)…حضرتِ سیِّدُناابوخالد اَحمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:حضرتِ سیِّدُنامُعاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ طاعون میں مبتلاہوئےتوسکراتِ موت کے سبب بےہوش ہوگئے،جب کچھ طبیعت سنبھلی تو یوں کہنے لگے:تجھے تیری عزت کی قسم!میرا گلا گھوٹ کر دم نکال دے، بےشک تو جانتا ہے کہ میرا دل تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اےپروردگار! تجھے معلوم ہے کہ میں دنیا میں نہروں کی روانی اور درختوں کی پیداوار کے لئے زندہ رہناپسند نہیں کرتا بلکہ وقت کی مصیبتیں جھیلنے، پیاسوں کوپانی پلانے اور علمی محفل میں بیٹھ کر علما سے علمی مذاکرے کرنے کے لئے زندگی پسندکرتا ہوں۔
سیِّدُنا عَمرو بن قَیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناعمروبن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےمتعددتابعین عظام سےاحادیث روایت کی ہیں جن میں حضرتِ سیِّدُناحکم بن عُتَیْبَہ،حضرتِ سیِّدُناابواسحاق سَبِیعی،حضرتِ سیِّدُناعبدالملك بن عمیر،حضرتِ سیِّدُنا سِماك بن حَرب،حضرتِ سیِّدُناسَلَمہ بن کُہيل،حضرتِ سیِّدُناعطِيّہ بن سعد،حضرتِ سیِّدُناعطاءبن ابی رَباح، حضرتِ سیِّدُنامحمدبن مُنكَدِر،حضرتِ سیِّدُنامُصعَب بن سعد اورحضرتِ سیِّدُنامحمدبن عَجلان رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور دیگر شامل ہیں۔
تسبیح فاطمہ کی برکت:
(6556)…حضرتِ سیِّدُناکعب بن عُجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ رحمتِ عالَم، نورِمجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”پےدرپے کہے جانے والے بعض کلمات ایسے ہیں جنہیں کہنے والا نقصان میں