Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
131 - 531
جانے والے عمل میں دکھاوے، شہرت اور تعریف کو پسند نہ کرنا۔
(6543)…حضرتِ سیِّدُنا نُعیم بن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناعَمروبن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کو اس طرح قرآنِ پاک پڑھایا کرتے کہ ہرشخص  کے سامنےخود جا کر بیٹھتے حتّٰی کہ سب فارغ ہو جاتے اور کسی کے آگے نہیں چلتے تھے بلکہ سب کو ساتھ مل کرچلنے کاکہتے۔
علما کا ادب:
(6544)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعَمروبن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جب کوئی عالمِ دین تشریف  لاتے تو آپ دوزانوں بیٹھ جاتے اور کہتے:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا وہ مجھے بھی سکھادیجیئے“اور اپنی بات کو اس آیت سے مزین فرماتے:
عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ﴿۶۶﴾ (پ۱۵،الکھف:۶۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گےنیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی۔
خلق خدا پر تَرس:
(6545)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا:”آپ کی بدلتی حالت کا سبب کیا ہے؟“فرمایا:”لوگوں پر تَرس آنا کہ وہ اپنی جانوں سے غافل ہیں۔“
(6546)…حضرتِ سیِّدُنااسحاق بن خَلَف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے:حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بازاروالوں کو دیکھتے تو  روتے ہوئے کہتے:”جو کچھ ان کے لئے تیارکیاگیاہے اس سے کتنے غافل  ہیں۔“
اصلاح اورغفلت والے اعمال:
(6547)…حضرتِ سیِّدُناابوسِنان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعمرو بن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب تم اپنی ذات(کی اصلاح)میں مشغول ہو جاؤ گے تو لوگوں سے غافل  ہوجاؤگے اور جب لوگوں کے معاملات میں لگ جاؤگے تو اپنے آپ سے غافل ہوجاؤگے۔