Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
130 - 531
ہوتے۔ اگر مسجد میں بھی نہ ملتے تو قبرستان میں نفس پر گریہ وزاری کررہے ہوتے۔ جب ان کا وصال ہوا تو کوفہ کے لوگ گھروں کے دروازے بند کرکے ان کے جنازے میں شریک ہوئے، ان کا جنازہ میدان میں لائے اور چارپائی کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ آپ کی وصیت تھی کہ جنازہ حضرتِ سیِّدُنا ابوحَیّان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی پڑھائیں۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوحیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نےآگے بڑھ کر چار تکبیروں سے نمازِجنازہ پڑھائی۔ اس وقت کسی کو زور سے یہ کہتے سنا گیا:”نیکوکار عَمروبن قیس آچکے ہیں۔“اس وقت میدان ایسے سفید پرندوں سےبھرا ہوا تھا کہ ان جیسے حُسن و خِلقت والا پہلےکبھی دیکھا نہ گیاتھا، لوگ ان کی خوبصورتی اور کثرت پرمُتعجب تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو حیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے فرمایا:تم کس پرتعجب کررہےہو؟ یہ فرشتے ہیں، عمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازے میں شرکت کے لئے آئےہیں۔
سفید لباس میں ملبوس جماعت:
(6540)…حضرتِ سیِّدُناابوخالداَحمرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَر کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نفس کے ساتھ تاجروں جیساسلوک کرتےتھے۔ ان کاانتقال شام کےکسی علاقے میں ہوا۔ جنازے کے وقت میں نے صحرا کو سفیدلباس میں ملبوس لوگوں سےبھرا دیکھا اور جنازے کے بعد انہیں نہ پایا۔ کسی نے امیر عیسٰی بن موسٰی کو یہ واقعہ بذریعہ  خط لکھ بھیجا۔ اس نے حضرتِ سیِّدُنا ابن شُبرُمہ اور حضرتِ سیِّدُنا ابن ابولیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے کہا:”آپ نے مجھے عَمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟“انہوں نے فرمایا:”انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ تم امیر کے پاس میرا تذکرہ نہ کرنا۔“
(6541)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن سعید جُعفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:ہم حضرتِ سیِّدُناعَمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازہ میں شریک تھے،آپ کے جنازے میں سفید لباس میں ملبوس ایک  بہت بڑی جماعت  شریک تھی، نمازِ جنازہ  کےبعدوہ چلی گئی پھر کبھی نظرنہ آئی۔
عاجزی کی بنیاد:
(6542)…حضرتِ سیِّدُناعمرو بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:عاجزی کی بنیاد تین چیزیں ہیں (۱)…ملاقات کے وقت سلام میں پہل کرنا (۲)…اعلیٰ کے بجائے ادنیٰ جگہ بیٹھنا پسندکرنا اور (۳)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر کئے